میری ریاست جل رہی ہے۔باکسر میری کوم
نئی دہلی :۔4؍مئی
(زین نیوز ڈیسک)
پور میں، حکومت نے تشدد میں ملوث فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل تشدد سے متاثرہ علاقوں میں دفعہ 144 نافذ تھی۔ ریاست میں اگلے 5 دنوں کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ دراصل بدھ کو قبائلیوں کے مظاہرے کے دوران تشدد ہوا تھا۔ اس کے بعد 8 اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ فوج اور آسام رائفلز کی 55 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ 9000 لوگوں کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ سے فون پر بات کی اور صورتحال کے بارے میں دریافت کیا۔ بیرن سنگھ نے آج صبح ایک ویڈیو پیغام جاری کرکے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
اس کے ساتھ ہی مرکز نے شمال مشرقی ریاست کے تشدد زدہ علاقوں میں تعیناتی کے لیے RAF ٹیمیں بھی بھیجی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آر اے ایف کی پانچ کمپنیوں کو امپھال پہنچا دیا گیا ہے، جبکہ دیگر 15 جنرل ڈیوٹی کمپنیوں کو ریاست میں تعیناتی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔

قبائلی اور غیر قبائلی برادریوں میں تصادم
آل انڈیا ٹرائبل اسٹوڈنٹ یونین نے بدھ کو قبائلی یکجہتی مارچ بلایا تھا۔ اس دوران قبائلی اور غیر قبائلی برادریوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ قبائلی برادری اس مطالبے کے خلاف احتجاج کر رہی تھی کہ غیر قبائلی میتی برادری کو شیڈول ٹرائب (ST) کا درجہ دیا جائے۔
منی پور ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ میتی کمیونٹی کے مطالبے پر غور کرے اور 4 ماہ کے اندر مرکز کو سفارشات بھیجے۔ اس حکم کے بعد قبائلیوں اور غیر قبائل کے درمیان تشدد شروع ہو گیا۔
باکسر میری کوم نے شیئر کی تصاویر، لکھا – میری ریاست جل رہی ہےخواتین کی باکسنگ میں ہندوستان کے لیے اولمپک کانسی کا تمغہ جیتنے والی میری کوم نے تشدد کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تصاویر کب اور کہاں لی گئیں۔ انہوں نے لکھا میری ریاست جل رہی ہے۔ میری کوم نے کہا کہ حالات بہت خراب ہیں۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ تشدد میں کچھ لوگوں نے اپنے خاندان کے افراد کو کھو دیا۔
Manipur, India – It is neither Ukraine nor Sudan! pic.twitter.com/lOoCaVjweT
— Ashok (@ashoswai) May 3, 2023
تشدد کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔پولیس کاکہنا ہے کہ قبائلیوں کے مارچ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس دوران قبائلیوں اور غیر قبائلیوں کے درمیان تشدد پھوٹ پڑا۔
صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے کئی راؤنڈ فائر بھی کیے تاہم تشدد تھمنے میں نہیں آیا۔ اس کے بعد فوج اور آسام رائفلز کو بلایا گیا۔ ریاست کے امپھال ویسٹ، کاکچنگ تھوبل، جیریبام، بشنو پور، چورا چند پور، کانگپوکپی اور ٹینگنوپال میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کی پانچ کمپنیاں دارالحکومت امپھال بھیجی گئی ہیں۔ منی پور میں سی آر پی ایف کی تقریباً 15 کمپنیاں پہلے سے موجود ہیں۔ اضافی فورس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
