حیدرآباد16؍فروری
نمائندہ خصوصی
ظالم شرابی شوہر کے حملہ میں زخمی بیوی بالآخر دوران علاج اپنے زخموں سے جانبر نہ ہوسکی جو شوہر کے ہاتھوں ٹوٹی شراب کی بوتل سےگلہ کاٹنے کے بعد تشویشناک حالت میں ایک خانگی دواخانہ میں زیرعلاج تھی۔ ۔مہلوک ریشماں بیگم کے خاندانی ذرائع کے مطابق تلنگانہ ریاست کے ضلع جگتیال کے منڈل مٹ پلی کے موضع آرا پیٹ سےتعلق رکھنے والے شیخ جانی،عزیزہ بیگم کی 27سالہ ریشما بیگم نامی بیٹی کی حضور آباد منڈل کریم نگر ضلع سے تعلق رکھنے والے محمد افسرکے ساتھ اکٹوبر 2010میں شادی ہوئی تھی۔دونوں میاں بیوی بندہ مسجد کنڈا پور کے علاقہ میں قیام پذیر تھے محمد افسر جو کہ پیشہ کے اعتبار سے ڈرائیور ہے روزانہ اپنی بیوی کے ساتھ حالت نشہ میں گالی گلوچ اور مارپیٹ کیا کرتا تھا یہ اسکی فطرت بن گئ تھی جس سےعاجز آکر ریشما بیگم اپنے مایئکےچلی گئی تھی تاہم دونوں کے افراد خاندان کی جانب سے صلح کروانے کے بعد ریشما کو دوبارہ شوہر کے ساتھ بھیج دیا گیا۔11/ فروری کو رات گیارہ بجے محمد افسراپنی بیوی ریشماں بیگم کے ساتھ بدکلامی کرتے ہوئے اس پر شراب کی بوتل سے حملہ کرکے کانچ سے ریشما بیگم کا گلہ کاٹ دیا۔جس کو شدید تشویشناک حالت میں سریکارا ہاسپٹل مائیتری نگر مدینہ گوڑہ میاں پور منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج 15 فروری کو فوت ہوگئ۔ مہلوک ریشمابیگم کی نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم گاندھی ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ مہلوک ریشماں بیگم کے والدین نے انصاف دلوانے کی مانگ کے ساتھ مجلس بچاؤ تحریک کے قائد امجد اللہ خان ربط پیدا کیا۔