آگرہ میں مسلم خاندان پر شرپسندوں کا حملہ، لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی

تازہ خبر جرائم حادثات

آگرہ میں مسلم خاندان پر شرپسندوں کا حملہ، لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی۔ویڈیو وائرل 

آگرہ: ۔6؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)

آگرہ میں ایک مسلم خاندان کے گھر میں مبینہ طور پر چار شرپسندوں نے گھس کر ان کی 18 سالہ بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی، گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی اور خاندان کے دیگر افراد کو زخمی کیا۔
 حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کی کوشش کی تو خاندان کے دیگر افراد پر بھی حملہ کیا گیا یہ واقعہ ٹرانس یمنا پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا جس کی ایک ویڈیو بدھ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق منگل کی شام اتر پردیش کے آگرہ میں ٹرانس یمونا پولیس اسٹیشن کے تحت ایک علاقے میں چار افراد نے مبینہ طور پر ایک مسلم خاندان کے گھر میں گھس کر ایک 18 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس سورج کمار رائے نے کہاکہ چاروں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ مفرور ملزمان کو پکڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں کام کرنے والے مکان کے مالک (نام مخفی رکھا گیاہے) کے مطابق انہوں نے میری نوعمر بیٹی کو نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی اور اس کے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔
 جب ہم نے اعتراض کیا تو چاروں افراد جن میں وشال کمار، سنجے کمار، شیلو اور چھوٹو نے ہم پر حملہ کیا۔ چند اور لوگ ہمارے گھر کے باہر پہرے دار کھڑے تھے۔
تمام حملہ آوروں کی عمریں 20 سے 30 سال کے درمیان ہیں۔ انہوں نے ہمارے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور ہمارے گھر پر پتھر بھی برسائے۔ میری بیٹی کے سر میں اینٹ لگنے سے وہ بے ہوش ہو گئی۔ میرے دو بیٹے بھی زخمی ہوئے۔ ہماری گاڑیوں کو نقصان پہنچاہے۔
 لڑکی کے بھائی کا کہنا تھا کہ جب پڑوسی ہمارے گھر کے باہر جمع ہوئے تو حملہ آور چلے گئے، لیکن ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے سے پہلے نہیں ہم پر ان کا حملہ 30 منٹ سے زیادہ جاری رہا، کوئی بھی ہمیں بچانے کے لیے نہیں آیا۔ہمیں نشانہ بنایا گیا۔
محلے میں صرف مسلمان خاندان ہے۔پولیس نے ملزمان کے خلافت تعزیرات ہند کی دفعات 452 ، 354 B54 ، 323  504 ، 506 ، 427 ,336 ,308 کے تحت مقدمات دج کیے ہیں۔
ٹرانس یمنا کے ایس ایچ او آنند پرکاش نے کہاکہ زخمیوں کو طبی معائنے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ملزمان فرار ہیں۔ ان میں سے دو بہن بھائی ہیں اور باقی ان کے رشتہ دار ہیں۔