پاکستان : توشہ خانہ کیس میں جرم ثابت ہونے پر عمران خان کو 3 سال قید کی سزا
بدعنوانی کے الزام میں قصوروار ٹھہرائے جانے فیصلے کے بعد لاہور سے گرفتار
نئی دہلی:۔5؍اگست
(زین نیوز دیسک)
پاکستان کے سابق وزیر اعظم وتحریک انصاف پارٹی کے چیئرمین عمران خان کو اسلام آباد کی ایک ٹرائل کورٹ کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں بدعنوانی کے الزام میں قصوروار ٹھہرائے جانے اور تین سال قید کی سزا سنائے جانے کے فوراً بعد ہفتہ5 اگست کو لاہور پولیس نے گرفتار کر لیا۔
یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب جمعہ کو ایک پاکستانی ہائی کورٹ نے ایک نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے بدعنوانی کے ایک مقدمے کی دوبارہ سماعت کرنے کو کہا تھا جس میں سابق وزیر اعظم پر اقتدار میں رہنے کے دوران مہنگے سرکاری تحائف فروخت کرنے سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)جس کے سربراہ عمران خان ہیں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے گرفتاری کی تصدیق کی۔ انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے گا۔
ڈان کے مطابق جب عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تو وہ عدالت میں نہیں تھے اور انہیں تحائف کی تفصیلات چھپانے( توشہ خانہ کیس) پر 100,000 پاکستانی روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا
جب عمران عدالت نہ پہنچے تو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے فیصلہ سنایا۔ اب عمران خان ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر سکتے ہیں۔
فیصلہ آنے سے قبل خان نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے لیے درخواستیں دی تھیں تاہم دونوں عدالتوں نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ میں سماعت مکمل ہونے سے قبل وہ اس میں مداخلت نہیں کریں گی۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے وکیل بھی موجود نہیں تھے۔سزا اور جرمانہ پاکستان کے الیکشن ایکٹ کے سیکشن 174 کے ذریعہ فراہم کردہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ ہیں۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہمایوں دلاور نے کہاکہ عمران خان نے جان بوجھ کر (تحائف کی) جعلی تفصیلات الیکشن کمیشن آف پاکستان کو جمع کرائیں اور وہ بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے۔”
عمران خان کے خلاف مقد مہ جسے عام طور پر توشہ خانہ کیس کہا جاتا ہے، حکمراں جماعت کے قانون سازوں کی جانب سے ای سی پی کو دائر کی گئی ایک مجرمانہ شکایت پر مبنی ہے۔
توشہ خانہ ایک ذخیرہ ہے جہاں غیر ملکی حکام کی طرف سے سرکاری اہلکاروں کو دیے گئے تحائف رکھے جاتے ہیں۔ حکام کو ان تحائف کی اطلاع کابینہ ڈویژن کو کرنی ہے۔ لیکن خان پر قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں برقرار رکھنے کا الزام ہے۔
یہ کیس ای سی پی کی جانب سے خان کی نااہلی کا باعث بنا ہے۔پی ٹی آئی نے فیصلے کے خلاف پرامن احتجاج کی کال دی اور کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔ پارٹی نے اردو میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ خان نے پولیس کے خلاف مزاحمت نہیں کی
مقدمہ کے آغاز سے لے کر ٹرائل تک اور ٹرائل سے لے کر اغوا تک ہر عمل غیر قانونی ہے۔ یہ سارا عمل ظاہر کرتا ہے کہ لندن پلان کا ماسٹر مائنڈ عمران خان سے کتنا خوفزدہ ہے اور اس مضحکہ خیز مقدمے اور اغوا کے لیے ہر غیر قانونی حربہ آزمایا گیا ۔