شراب بےحیائی کی جڑ اور ام الخبائث ہے

تازہ خبر مذہبی مضامین

از: قلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
سماج اور معاشرہ میں جہاں بہت سارے دیدہ ونادیدہ گناہ اوراللہ تعالی کی نافرنیاں ہورہی ہیں وہیں ایک سب سے بڑی برای بلکہ برائیوں وبے حیائیوں کی جڑ شراب نوشی بھی عام ہوتی جارہی ہے کہیں خواہش نفس کی تسلی کے لےء تو کہیں عادت اور لت کی وجہ سے امت کا ایک بڑا طبقہ اس مہلک مرض اور نشہ آور چیز میں ملوث ہورہاہے دینی تنظیموں اور اصلاح معاشرہ کی عظیم ذمہ داری کو اداکرنے والے افراد کو چاہہیے کہ وہ آگے آئیں اور اس سم قاتل اور زہر ہلاہل سے بھٹکے ہوے طبقہ کو راہ راست پر لانے کی فکر اور قابل قدر کوشش کریں شراب کی حرمت وشناعت پر زیادہ کچھ لکھنے سے بہترہیکہ زمینی سطح پر اس برای کی روک تھام کے لےء امت کا ہردردمند اورفکرمند طبقہ اپنے اپنے اعتبار سے کوشش کرے تاہم اس گناہ سے ہونے والے نقصانات سے واقفیت اور سماج میں پیش آرہے حالات وواقعات سے آشنای بھی ضروری ہے شاید اسی وجہ سے شہر کے بعض افراد نے راقم الحروف سے خواہش کی کہ مختلف عناوین کے تحت آپ احباب امت مسلمہ میں شعور بیدار کراتے رہتے ہیں ہمارے شہر میں شراب نوشی کا ایک عام مزاج بنتا جارہا ہے مختلف شعبہ زندگی ومعیار حیات سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ وناخواندہ نوجوان سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے نظر آرہے ہیں اس لےء اس سلسلہ میں کچھ تحریری طورپر یا پروگرام منعقدکرکے اس کی حرمت اور قباحت وشناعت کو بتایاجاے تاکہ کچھ نا ہونے کے مقابلہ میں کچھ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادا ئیگی ہوسکے بریں بناء راقم الحروف نے سوچاکہ شراب جیسی ام الخبائث بیماری سے مسلم سماج کو روکنے اور شعور بیدار کرنے کے لےء ایک تحریر لکھ دی جاے تاکہ نہی عن المنکر کا ادنی درجہ (من لم یستطع فبلسانہ ) برای کو برای کہنے کا حق کم ازکم اداہوجاےچنانچہ عرض ہیکہقرآن مجید میں کئ ایک جگہ اس برای کو کھول کھول کر صاف لفظوں میں اللہ تعالی نے بیان فرمادیاکہ شراب رجس اورعمل شیطان ہے اس سے اپنےبآپ کو دوررکھواسی طرح شراب سے ہونے والے نقصانات سے باخبر کیا گیا اور پوری شدت سے اس گناہ سے روکا گیا اس کو ام الخبائث اور پوری بے حیائیوں اور برائیوں کی بنیاد اور جڑ کہاگیا شراب نوشی کو شیطانی عمل اسی وجہ سے کہا گیا کہ انسان اس کو پی لینے کے بعد انسانیت کی تمام حدودکو پارکرجاتا ہے اور شیطانی حرکات کرنے لگ جاتا ہے شراب نوشی کے بعد نہ ہی ماں باپ کا احترام باقی رہتا ہے نہ ہی بیٹا اور بیٹی کی عزت کا خیال آتا ہے نہ بیوی کی اہمیت نگاہوں کے سامنے ہوتی ہے نہ ہی اپنوں اور پرایوں کا احساس رہتا ہے اچھے برے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے حلال وحرام کا فرق نابود ہوجاتا ہے عقل انسانی بالکل ماؤوف ہوجاتی انسان کے حواس باختہ ہوجاتے ہیں وغیرہ وغیرہ یہی وجہ ہیکہ انسان شراب نوشی کے بعدوہ کام کرگذرتا ہے جس کا نقصان اس کو ہوش آنے کے بعد سمجھ میں آتاہے اور اس وقت قت وہ کف افسوس ملتا ہے جس کا اب کوی حاصل نہیں ہےشراب کو احادیث مبارکہ میں اکبرالکبائر اور ام الفواحش کہا گیا ہے شب شرات جیسی مقدس ومغفرت والی رات میں مدمن الخمر شراب کے عادی کی مغفرت نہیں ہوگی ایک روایت میں یہاں تک کہا گیا کہ اگر شراب کا عادی انسان اسی حالت میں مرجاے تو اللہ کء سامنے اس کی پیشی بت پرست اور مشرک کی حالت مجں ہوگی حتی کہ محض شراب سے تعلق رکھنے سے بھی اجتناب کاحکم دیا گیا ترمذی شریف کی روایت حضرت انس رض راوی ہیں حضور علیہ السلام نے فرمایاکہ شراب کے سلسلہ میں دس آدمیوں پر لعنت ہوتی ہے شراب بنانے کے لے انگور نچوڑنے والا دوسرے آدمی سے نچڑوانے والاپینے والاپینے کے لےء اٹھانے والاجس کے لےء اٹھاکر دیا بیچنے والا پلانے والااس کی قیمت کھانے والاخریدنے والاوہ شخص جس کے لےء شراب خریدی گیءان سب افراد کو اللہ کے نبی نے ملعون وملامتی قراردیا ہے ایک روایت میں کہ اللہ پاک نے قسم کھای ہیکہ میرے بندوں میں سے جو بھی جوبھی شراب کا ایک گھونٹ پیے گا میں اس کو اتناہی لہواور پیپ پلاؤں گا اور جوبندہ میرے خوف سے شراب چھوڑ دے گا میں اس کو پاکیزہ حوضوں کی پاکیزہ شراب پلاؤں گا بہرحال معاشرہ کے فساد اور بگاڑ کا ذریعہ یہی وہ شراب ہے جو آج عام ہوتی جارہی ہے خود ہمارے شہر کی حالت دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل اخبارات ودیگر ذرائع ابلاغ سے یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ کسی نے شراب کی حالت دھت اپنی بیوی کو طلاق دے دیا کسی نے رات کا آدھاحصہ گذرجانے کے بعد نشہ کی حالت میں اپنی بیوی پر ظلم وجبر کی انتہاء کردی کسی نے شراب کے نشہ میں چور ہوکر خودکشی کرلی کسی نے اپنے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کی وغیرہ وغیرہباس لےء ضرورت اس بات کی ہیکہ شراب جیسے مہلک لت اور عادت سے عوام الناس کو بازرکھنے کی ہر ممکنہ کوشش اور سعی کی جاےاللہ پاک امت مسلمہ کی حفاظت فرماے ہدایت کو عام وتام فرماے آمین