KCR Inagurtation

تلنگانہ ریاست کا طبی میدان میں ہندوستان بھر میں انقلاب

تازہ خبر تلنگانہ
تلنگانہ ریاست کا طبی میدان میں ہندوستان بھر میں انقلاب
9نئے سرکاری میڈکل کالجس کا ورچیول افتتاح‘  
 سالانہ10ہزار ڈاکٹر س کی تیاری ‘صحت عامہ مزید مستحکم ‘چیف منسٹر کے سی آر کی مخاطبت
حیدرآباد:۔15؍ ستمبر
 (زین نیوز) 
صحت عامہ کے شعبہ میں تلنگانہ کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاست نہ صرف تلنگانہ بلکہ پوری قوم کی ضروریات کو پورا کرنے والے سالانہ10ہزار ڈاکٹروں کی تیاری کے راستے پر ہے۔
 انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ہندوستان کے طبی شعبہ کی تاریخ میں ایک انقلاب برپا کر رہا ہے تاکہ غریبوں تک معیاری صحت کی دیکھ بھال کی رسائی کی کوشش کی جا سکے۔چیف منسٹر آج کریم نگر‘کاماریڈی‘ کھمم ‘جئے شنکر بھوپالا پلی‘ کمرم بھیم آصف آباد،‘نرمل‘راجناسرسلہ‘ وقارآباد اور جنگاؤں اضلاع میں بیک وقت نو نئے سرکاری میڈیکل کالجس کا ورچیول افتتاح کیا۔
 افتتاحی تقریب میں وزرائ‘ارکان قانون سازکونسل واسمبلی وپارلیمان‘ضلع کلکٹروں اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ ساتھ تمام نو سرکاری کالجس کے پرنسپل‘ عملہ اور میڈیکل طلبہ نے شرکت کی۔
اس موقع پرچیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ تلنگانہ میں 2014 میں صرف پانچ سرکاری میڈیکل کالجس تھے اس سال  ان کی جملہ تعداد26 تک پہنچ چکی ہے۔ چیف منسٹرنے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کی تبدیلی کے سفر پر روشنی ڈالی۔
 اس توسیع نے خاص طور پر میڈیکل نشستوں کی تعداد 2014 میں 2,850 سے بڑھ کر 2023 میں 8,515 کردی ہے۔ متاثر کن طور پر، ان نشستوں میں سے 85 فیصد مقامی طلبہ کیلئے مختص ہیں جس سے تلنگانہ کے نوجوانوں کی طبی تعلیم تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔
 انہوں نے وزیر صحت ٹی ہریش راؤ اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کو اس سلسلہ میں ہائی کورٹ میں موافق فیصلہ حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔صحت کی دیکھ بھال کے مضبوط نظام کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے چیف منسٹرنے طبی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیااور کہا کہ نئے افتتاح شدہ سرکاری میڈیکل کالج نہ صرف طبی تعلیم فراہم کریں گے
 بلکہ ریاست کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کریں گے اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرس میں معیاری طبی خدمات کو یقینی بنائیں گے۔
 میڈیکل کالجس میں ترقی کی تکمیل کیلئے تلنگانہ تمام ضلع ہیڈکوارٹرس میں نرسنگ کالجس اور پیرا میڈیکل کورسس قائم کررہا ہے جو سرکاری میڈیکل کالجس سے ملحق ہیں۔چندر شیکھر راؤ نے ہریش راؤ کی قیادت کی بھی تعریف کی جنہوںنے تلنگانہ کو ہر ایک لاکھ آبادی کیلئے 22 میڈیکل نشستوں کے ساتھ ہندوستان کی واحد ریاست بننے پر مجبور کیا۔
 انہوں نے 2014 میں سرکاری ہاسپٹلس کے بستروں کی تعداد 17,000 سے بڑھ کر اس وقت 34,000 ہونے پر روشنی ڈالی۔ حیدرآباد میں چار تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس(ٹمس)ہاسپٹلس سمیت چھ بڑے ہاسپٹلس کی تعمیر کے علاوہ ورنگل میں ایک ہاسپٹل اورنمس کی صلاحیت کو 2,000 سے بڑھا کر 4,000 بستر کرنے کا تذکرہ کیا ۔علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی بتایاکہ ریاست میں صرف سرکاری ہاسپٹلس میں 50,000 سے زیادہ بستر ہوں گے۔
کوویڈ۔19 وبائی امراض سے درپیش چیلنجوں سے سبق سیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت طبی انفراسٹرکچر کو مضبوط کررہی ہے۔ تلنگانہ اب ہاسپٹلس کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 500 ٹن آکسیجن پیدا کررہا ہے۔ ریاست کے تمام سرکاری دواخانوں میں بستروں کو آکسیجن سے لیس کر رہی ہے اور تقریباً 10ہزاراسپیشلٹی بستر فراہم کرنے کی تیاری  کی جا رہی ہے۔
کے سی آر نے کہا کہ ایک نسل کے نقصان کو پورا کرنے میں 75 سال لگیں گے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے رحم میں بڑھتے ہوئے بچہ کی طرح اچھا ہونا ضروری ہے۔ ہم اس کیلئے ایک نیوٹریشن کٹ فراہم کر رہے ہیں۔ اس سے آنے والی نسلوں کو فائدہ ہوگا۔ کے سی آر کٹ، نیوٹریشن کٹ اور اماں اوڈی اسکیموں کے ذریعہ 76 فیصدزچگیاںسرکاری دواخانوں میں ہورہی ہے۔
 زچہ و بچہ کی اموات  پر قابو پالیاگیا ہے۔2014 میں 92 مائیں فوت ہوئیں، آج ہم نے اسے کم کر کے 43 کر دیا ہے۔ ہم نے نوزائیدہ بچوں کی اموات کو 21 تک گھٹادیا ہے۔ اگر 30 فیصد زچگیاںسرکاری دواخانوںمیں ہوتی تھی تو اب ہم نے اسے بڑھا کر 76 فیصد کر دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم پیرا میڈیکل کورس بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ہم نے ملک میں طبی انقلاب برپا کیا ہے۔ طبی شعبہ میں ریاست کافی ترقی کی ہے۔جس کی عکاسی نیتی آیوگ ہیلتھ انڈیکس میں ہوئی ہے،اس نے ریاست کو 2014 میں 11ویں رینک سے اس سال تیسرے مقام پر چڑھتے دیکھا۔