کیاہی اچھا ہوتا کہ کفن اور قبرکی دوگز جگہ بھی
جہیز میں مانگ لی جاتی
(عائشہ کی خوکشی لمحہ فکریہ)
ازقلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد9505057866
گذشتہ دوہفتوں سے مسلسل اخبارات ودیگر ذرائع ابلاغ سے معاشرہ کے موجودہ تغیرپذیر حالات کا علم ہورہا ہے جسے پڑھ کر یا دیکھ کر ہر ماں باپ کی آنکھ یقینا ڈبڈبای ہوگی اور درد ہی کچھ ایسا ہیکہ ہونا ہی چاہیےکبھی شہر نظام آباد میں جہیز کے نام پرنئ نویلی دلہن کو موت کے گھاٹ تک اتاردیاجاتا ہے تو کبھی جگتیال میں مطالبہءجہیز کرتے ہوے ایک دلہن کو قتل کردیا جاتا ہے کبھی احمدآباد کی عائشہ کو جہیز ہراسانی کے معاملہ کی وجہ سے خودکشی کرکے اپنی جان دینے کی ضرورت پڑگیءیقینا یہ اور اس جیسے کئ شہر اور علاقے ہیں
جہاں یہ سماجی برای ایک رستا ہوا ناسور بن کرابھررہی ہے اس برای خاتمہ بہت جلد ہونا چاہہیے جس کے لےء علماء وخطباء حضرات اپنے ممبرومحراب سے فلاحی ودینی تنظیمیں اپنے اپنے اسٹیج سے اس رسم جہیز کی روک تھام کے لےء سرگرم ہیں اوربرسوں سے اس کی قباحت وشناعت بیان کی جارہی ہے لیکن افسوس کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکیکے مصداق ان مسائل میں آج بھی ہمارا سماج اور معاشرہ ملوث نظر آرہا ہے بلکہ ان دنوں تو اس قسم کے واقعات میں روزبہ روز اضافہ ہی ہوتا دکھای دے رہا ہے
زمانہ قدیم میں ان واقعات کو غیر قوم کے سماج میں سنا اور پڑھا جاتا تھا کہ کسی نے اپنی بہو کا جہیز کے لےء گلاکاٹ دیا کسی سے دلہن کے کھانے میں زہر ملادیا کسی نے تیل چھڑک کر کسی بیٹی کو زندہ جلادیا کسی نے مظلوم بن کر اپنے آپ کو خودکشی کے لےء ذمہ دار ٹہرالیاوغیرہ وغیرہ لیکن اب ایسالگتا ہیکہ رفتہ رفتہ ام منحوس رسوم رواج نے مسلم معاشرہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا آج جہیز کے نام پر سوی سے لے کر سونے تک فریج سے سواری تک بلکہ عمومی زبان میں کہاجاے کہ سرکے بال سے پیر کے ناخن تک سب کچھ جہیز میں مانگا جارہا ہے تو بے ساختہ زبانوں پر یہ بات آہی جاتی کہ کاشلڑکے والے دلہن کے گھرو والوں سے جہیز میں اگر کفن اور قبر کی دوگزجگہ بھی مانگ لیتے تو اچھا تھاآخعی سفر کا مکمل خرچ بھی لڑکی والوں کے ذمہ کردیا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا؟
جس کوکسی شاعر نے کہاتھا اب آیا یاد اس جہان نامرادی میں کفن دینا بھولے تھے تجھے سامان شادی میں الامان الحفیظ مسلمانوکچھ تو خداکا خوف دلوں میں پیدا کرواور اپنی شادیوں کو پوعی سادگی اور اسلامی طریقہ سے کرو……موجودہ زمانہ کی شادیوں میں آج جہاں بے شمارگناہ اور مختلف قسم کے لغویات ہوتے ہیں جس سے دنیا وآخرت دونوں بھی نہ صرف تباہ وبرباد ہوتے ہیں وہیں ایک انسان اپنی لڑکی یالڑکے کی شادی کے لےء زندگی بھرکی کمای اور پونجی اور قیمتی اثاثہ اورپوراسرمایہ محض مخر ومباہات اور وقتی شہرت کے لےء خرچ کررہا ہے بلکہ بعض تو سودی قرض لے کر اپنی خواہشات کی تکمیل کے لےء زندگی بھر قرض کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں
انہیں رسم ورواج اور غیر شرعی اعمال میں سے ایک جہیز کامعاملہ بھی ہے جو آج پورے زور وشورکے ساتھ لڑکی والوں سے مانگ کر یا لڑ کر لیاجارہا ہے ستم بالاے ستم کہ ایک باپ زندگی بھر اپنی بیٹی کوپال پوس کر اس کی زندگی کی ہرضرورت کو ہوراکرتے ہوے اپنی لاڈلی بیٹی کو سامان جہیز اور ہر قسم کی آسائش وآرام کی چیزیں مہیا کرکے اس کو اپنے شوہر کے حوالہ کرتا ہے اس کی ذمہ داری میں دےکر دلہن بناکر باپ اپنے گھر سے رخصت کرتاہے خواہ باپ کی سکت ہوں یا نہ ہوں بہرصورت وہ ان چیزوں کاانتظام کرتا ہے لیکن اس کے باوجودبھی بے غیرت اور دیوس مردوں کی جانب سے مزید کا مطالبہ ہوتا ہے اور فراہم نہ کرنے پر لڑکیوں پر ظلم وزیادتی کا اس کو شکاربنایا جاتاہے ساس الگ طریقہ سے طعنہ کشی کعتی ہے نندن اپنی چبھتی ہوی زبان سے دلہن کے دل میں کانٹے چبھوتی ہے کبھی دیورانی کبھی کوی کبھی کوی جہیزکے حوالہ سے آنے والی دلہن کا دل دکھانے کا ایک سلسلہ بنادیا جاتا ہے بالاخر ہوتا وہی ہے جو عائشہ کے ساتھ ہوا اور پوری دنیا کس پر افسوس کرتے ہوے واویلا مچاتی ہے
ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو شرعی جہیز سے واقفیت حاصل کرکے شادی سے پہلے اسی تناظرمیں بات چیت کرنا چاہییے بصورت دیگر نامنظوری کا اشارہ دے دیں تاکہ کم از کم کسی بیٹی کی خان تو نہیں جاے گی ہمیں معلوم ہونا چاہہیے کہ جہیز کی شرعی حیثیت بس اتنی تھی کہ ایک باپ اپنی بیٹی کو رخصتی کے وقت اپنے دل کے تقاضہ سے ایسی چیزوں کاتحفہ پیش کرتا ہے جو اس کے لےء آئندہ زندگی میں کام آسکے خود حضور علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی کو سادگی کے ساتھ اپنی خوشی اوررضاسے کچھ سامان زندگی بطور جہیز عطاء فرمایاتھا جس میں دویمنی چادر دوروی کے بستر چارگدے چاندی کے دوبازوبندھ ایک کملی ایک تکیہ ایک پیالہ ایک چکی اورایک مشکیزہ اور پلنگ شامل تھا نیز ایک صاحبزادی کے علاوہ دیگر بیٹیوں کو کوی جہیز اللہ کے نبی کی جانب سے دینے ذکر احادیث وروایات میں نہیں ملتا جس سے جہ بات صاف سمجھ میں آسکتی ہیکہ جہیز دینا شادی کا کوی جزولازم نہیں ہے
لیکن افسوس صد افسوسکہ آج ملت اسلامیہ نے اس کو اتنا لازم کرلیا کہ جہیز کے بغیر کسی بھی لڑکی کی شادی اب ممکن ہی نہیں رہی جس کا انجام یہی ہورہا ہے کہ معاشرہ میں بے شمار لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہوی ہیں چونکہ ان کے ماں باپ کے پاس اپنی بیٹی کو دینے کے لےء کچھ نہیں ہے یا کوی باپ سامان جہیز کے لےء کسی بھی اعتبار سے اپنے آپ کو جائز وناجائز قرض کے شکنجہ میں دب کر دہوکہ دہی فریب کاری جعل سازی اور خیانت سے کام لیتے ہوے جہیز تیار کراتا ہے اور زندگی بھر اسی قرض کی ادائیگی میں گزاردیتاہے باوجود اس کے بعض مردوں کہ جانب سے اپنی بے غیرتی کاثبوت دیتے ہوے مزید جہیز کی مانگ کی جاتی ہے اور مطالبات پورے نہ ہونے پر پھر معاشرہ میں ایسے ہی واقعات جنم لیتے ہیں جو ہم سب کو اور سماج کو شرمسار کرنے کے لےء کافی ہوجاتے ہیں
اس سلسلہ میں باضابطہ مہم بناکر جب رشتے طےء ہوتے ہوں اس وقت طرفین کو سمجھانے اور شرعی جہیز کی حقیقت بتلانے کی ضرورت ہے یا پھر باقاعدہ اعلان کرکے ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جس میں مانگ کر جہیز لیا جاتا ہے یا لڑکی والوں کی حیثیت سے زیادہ کامطالبہ کیا جاتا ہے اللہ پاک سب کو توفیق فہم اور عقل سلیم نصیب فرماے آمین
بحرمۃ سید الابرار