مسلمانوں کو مذہبی بنیاد پر تحفظات دینے کا بی جے پی کا جھوٹا پروپیگنڈہ
تلنگانہ میں او بی سی کو 42 فیصد ریزرویشن کی راہ میں رکاوٹیں ناقابلِ فہم
مقامی انتخابات میں تاخیر سے 1500 کروڑ روپے کے نقصان کا اندیشہ ۔ٹی جیون ریڈی
جگتیال:۔ 8 اگست
(نمائندہ زین زین)
ریاستی حکومت کی جانب سے او بی سی طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن دینے کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، لیکن ریاستی حکومت کی آئینی کوششوں کو بار بار روکنا، وفاقی نظام اور جمہوری اقدار کی توہین کے مترادف ہے۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیر و سینئر کانگریس رہنما ٹی جیون ریڈی نے آج جگتیال ضلع کے مرکزی دفتر "اندرابھون” میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے جمہوری نظام میں سب سے اعلیٰ مقام صدرِ جمہوریہ کا ہوتا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جب ریاستی حکومت او بی سی طبقات کے لیے موجودہ 29 فیصد ریزرویشن کو بڑھا کر 42 فیصد کرنے کا بل منظور کرکے گورنر کے ذریعہ صدرِ جمہوریہ کو روانہ کرتی ہے، تو چار ماہ کا وقت گزرنے کے باوجود بھی صدر کی جانب سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی۔
جیون ریڈی نے کہا کہ ستمبر تک مقامی اداروں کے انتخابات کرانے کے لیے ہائی کورٹ کی واضح ہدایت ہے۔ انتخابات میں تاخیر کے سبب ریاست کو 1500 کروڑ روپے مرکزی فنڈز سے محروم ہونے کا اندیشہ ہے۔انہوں نے سابق حکومت کے 2018 کے پنچایت راج قانون کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس وقت مقامی اداروں میں 50 فیصد ریزرویشن کی حد مقرر کی گئی تھی، مگر موجودہ حکومت نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں 50 فیصد سیلنگ ہٹانے اور 42 فیصد ریزرویشن دینے کے لیے آرڈیننس تیار کیا، جسے گورنر نے منظور کیے بغیر صدر کو بھیج دیا۔
ٹی جیون ریڈی نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی اجازت مانگی لیکن انہیں وقت نہیں دیا گیاجو نہ صرف وزیر اعلیٰ کی توہین ہے بلکہ پوری ریاست تلنگانہ کے 4 کروڑ عوام کی توہین کے مترادف ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں پسماندہ طبقات کو انصاف دلانے کے لیے مقننہ نے آئینی طریقے سے 42 فیصد ریزرویشن بل منظور کیا۔
یہ بل تعلیم اور ملازمتوں کے علاوہ مقامی اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے اور اس میں کسی مخصوص مذہب یا طبقے کو فائدہ پہنچانے کا مقصد نہیں ہے۔ اس میں تمام طبقات کو یکساں سماجی انصاف دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ بی جے پی قائدین یہ جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا رہے ہیں کہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جا رہا ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ مسلمانوں کے صرف ان طبقات کو ریزرویشن دیا گیا ہے جو سماجی طور پر پسماندہ ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ نے متحدہ ریاست کے دوران 4 فیصد ریزرویشن کی اجازت دی تھی۔
ٹی جیون ریڈی نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ صرف اس لیے ریزرویشن بل کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں کیونکہ انہیں کانگریس پارٹی اور راہول گاندھی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عوامی مقبولیت سے خوف ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے تجاوز کرنے کا حوالہ دے کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، جبکہ تلنگانہ میں پہلے سے ہی 54 فیصد ریزرویشن لاگو ہے اور تمل ناڈو میں 69 فیصد ریزرویشن موجود ہے، جو 9ویں شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے صدرِ جمہوریہ اور مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ ریاستی حکومت کے 42 فیصد ریزرویشن بل کو فوری منظوری دی جائے تاکہ سماجی انصاف پر مبنی حکومت کے وعدے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ٹی جیون ریڈی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ہائی کورٹ نے ستمبر تک مقامی اداروں کے انتخابات کرانے کی ہدایت دی ہے، لیکن بل کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے نہ صرف انتخابات میں رکاوٹ آ رہی ہے بلکہ ریاست کو مرکز سے آنے والے 1500 کروڑ روپے کے فنڈز سے بھی محروم ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے اختتام پر مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت کو بااختیار بنانے اور عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے مرکز فوری طور پر اس بل کو منظوری دے اور مقامی اداروں کے انتخابات مقررہ وقت پر کروائے جائیں۔ اس پر یس کانفرنس میں ٹی پی پی سی سکریٹری مسٹربنڈا شنکر‘ سابق نائب صدر نشین بلدیہ محمدسراج الدین منصور‘ سابق کونسلر کے درگیا‘ یوتھ لیڈر محمد مکثر علی نہال‘ محمد ریاض اور دیگر موجود تھے
