Khalid Ka Shivaji

فلم’خالد کا شیواجی‘پر طوفان۔ مہاراشٹر میں احتجاج، حکومتی کارروائی شروع

تازہ خبر فلمی قومی

فلم’خالد کا شیواجی‘پر طوفان۔ مہاراشٹر میں احتجاج، حکومتی کارروائی شروع
 دائیں بازو کی مخالفت، تاریخی دعووں پر سوال

ممبئ :۔ 9/اگسٹ
(انٹر نیٹ ڈیسک)

مراٹھی فلم ’خالد کا شیو جی‘ کی ریلیز سے پہلے ہی مہاراشٹر میں شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ دائیں بازو کی تنظیموں کے احتجاج اور حکومت کی مداخلت کے بعد فلم کی نمائش فی الحال معطل کر دی گئی ہے، جبکہ مرکزی وزارت اطلاعات و نشریات نے فلم سازوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فلم میں پیش کیے گئے تاریخی دعووں کے ثبوت طلب کر لیے ہیں۔

فلم کی کہانی پانچویں جماعت کے طالب علم خالد (کرش مور) کے گرد گھومتی ہے، جسے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہم جماعت ’افضل خان‘ کہہ کر چڑاتے ہیں۔ یہ واقعہ خالد کو چھترپتی شیو جی مہاراج کی اصل شخصیت جاننے پر مجبور کرتا ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ شیو جی کی فوج میں 35 فیصد مسلمان شامل تھے اور وہ مذہب کی بنیاد پر امتیاز نہیں رکھتے تھے۔ ایک مکالمہ ’’سچا بادشاہ وہ ہے جو مذہب پر یقین نہ رکھے‘ دائیں بازو کے حلقوں کے غصے کا باعث بنا ہے۔

یہ اقدام مہاراشٹر حکومت کے ان اعتراضات کے بعد سامنے آیا، جن میں کہا گیا تھا کہ فلم کے ٹریلر میں تاریخی طور پر غلط مواد شامل ہے جو ریاست کے سماجی اور ثقافتی جذبات کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ایڈیشنل سکریٹری (آئی اینڈ بی)، ریاست کے سکریٹری (ثقافت) اور ایڈیشنل کمشنر پولیس ممبئی کی زیرِ صدارت ایک میٹنگ میں متعلقہ حکام نے امن و امان میں ممکنہ خرابی کے خدشے کے پیش نظر فلم کی ریلیز میں تاخیر کی سفارش کی۔
کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ ایک حساس تہوار کے دوران فلم کی نمائش "فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوامی امن کو برقرار رکھنے کے لیے موزوں نہیں ہوگی

ہدایت کار راج پرتیم مور، جو 2019 میں مراٹھی فلم ’خِصّہ‘ پر نیشنل ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں، نے اس فلم میں شیو جی مہاراج کو ایک ہمہ گیر اور سیکولر حکمران کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم دائیں بازو کی تنظیمیں شیو جی کو صرف ایک ہندو سورما کے طور پر پیش کرنے پر زور دیتی ہیں، اور یہی نظریاتی اختلاف تنازع کی جڑ بنا۔

پونے کی ہندو مہا سنگھ کے صدر آنند دیوے نے الزام لگایا کہ فلم نے شیو جی کی تاریخ کو مسخ کیا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر فلم پر پابندی نہ لگی تو سینماؤں کے باہر احتجاج ہوگا اور پونے سمیت دیہی علاقوں میں اس کی نمائش روک دی جائے گی۔

ریاست کے دیگر شہروں میں بھی مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے، بعض مقامات پر ٹریفک جام اور جائیداد کو نقصان پہنچانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

مہاراشٹر حکومت فلم کا سرٹیفکیٹ منسوخ کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی رہنماؤں نے سنسر بورڈ کی منظوری پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے فلم سازوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فلم میں پیش کردہ تاریخی دعووں کے ثبوت طلب کیے ہیں

تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما ساونت نے کہا کہ چھترپتی شیو جی مہاراج کے ترقی پسند اور جامع نظریات کو مسخ کرنا ان کی زندگی اور وراثت کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ان کے مطابق یہ ایک مستند تاریخی حقیقت ہے کہ شیواجی کی فوج میں مسلمان بھی شامل تھے اور ان کے ذاتی محافظ بھی ایک مسلمان تھے۔ساونت نے تاریخی حوالہ جات دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز مورخ جی۔ ایس۔ سردیسائی کی کتاب نیو ہسٹری آف دی مراٹھاز  جلد اوّل (صفحات 264–265) میں واضح طور پر لکھا ہے کہ شیواجی نے اپنی مسلم فوج کے لیے رائے گڑھ قلعے پر مسجد تعمیر کرائی تھی۔

اسی طرح شنتارام وشونو آولسکر کی رائے گڑھ چی جیون کتھا (1962ء، مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف لٹریچر اینڈ کلچر) اور پریم ہنوتے کی تحریروں میں بھی اس مسجد کا ذکر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 1907ء میں شیو جی کے پہلے سوانح نگار کرشناجی کیلوشکر کی کتاب چھترپتی شیو جی مہاراج میں بھی یہ بات درج ہے کہ انہوں نے اپنے عہد میں نہ مسلم رعایا کو نقصان پہنچایا اور نہ ان کی عبادت گاہوں کو۔

تنازع کے باوجود ’خالد کا شیو جی‘ کا انتخاب اس سال کے کانز فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے کیا گیا تھا، اور مہاراشٹر کے وزیر ثقافتی امور آشیش شیلرنے اس موقع کو مراٹھی سنیما کے لیے باعثِ فخر قرار دیا تھا۔

فلم میں کرش مور، سشما دیشپانڈے، کیلاش واگھمارے، سنیہلتا ٹاگڑے، پریہ درشن جادھو اور بھارت گنیش پوری نے اداکاری کی ہے۔ یہ فلم 8 اگست کو ریلیز ہونا تھی لیکن جاری تنازع اور حکومتی کارروائی کے باعث اس کی ریلیز فی الحال روک دی گئی ہے۔