Gujrat School

گجرات: اسکول ڈرامے میں مسلم لڑکیوں کو "دہشت گرد” بنا کر پیش کرنے پر ہنگامہ

تازہ خبر قومی

گجرات: اسکول ڈرامے میں مسلم لڑکیوں کو "دہشت گرد” بنا کر پیش کرنے پر ہنگامہ

بھاو نگر، 17 اگست

(زین نیوز ڈیسک)

یومِ آزادی کے موقع پر گجرات کے بھاو نگر ضلع میں ایک اسکول ڈرامہ تنازعے کا سبب بن گیا، جب کمبھرواڑہ اسکول میں برقع پوش مسلم لڑکیوں کو "دہشت گرد” کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آتے ہی شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور سماجی و سیاسی حلقوں میں سخت ردِعمل سامنے آیا۔

ڈرامہ بچوں، والدین اور مقامی شہریوں کے سامنے پیش کیا گیا، جس میں برقع پوش طلبہ کو دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مسلم کمیونٹی کی توہین ہے بلکہ معاشرے میں اسلامو فوبیا کو فروغ دینے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔

بھاو نگر کے سماجی کارکن شاہد خان نے اس ڈرامے کو "زہر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرامہ نہیں ہے بلکہ ہمارے بچوں کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ یومِ آزادی کے دن بھائی چارہ اور مساوات کا پیغام دینے کے بجائے نفرت پھیلائی گئی ہے۔

علاقے کی ایک خاتون فاطمہ بانو نے کہا کہ یہ واقعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند عمل ہے۔ اُن کے مطابق مسلم لڑکیوں کو برقع پہنا کر دہشت گرد قرار دینا معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ یہ پیغام ہمارے بچوں کے ذہنوں میں کیا نقش کرے گا؟ کہ مسلمان دشمن ہیں؟ یہ انتہائی شرمناک ہے۔

پروفیسر اقبال انصاری، ریٹائرڈ استاد، نے کہا کہ جب نصابی کتابوں میں تعصب بھرا جا رہا ہے اور اب اسکولوں میں اس طرح کے ڈرامے کرائے جا رہے ہیں، تو آنے والی نسل کیا سوچے گی؟ یہ ہمارے ملک کے لیے نہایت خطرناک رجحان ہے۔

وکیل نسیم احمد نے دہرا معیار اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہندو لڑکا جرم کرتا ہے تو اسے مجرم کہا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان لڑکا ایسا کرے تو اسے دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ آخر یہ امتیاز کیوں؟

شدید تنقید کے بعد مقامی حکام نے تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاہم پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ کمیونٹی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں نے ذمہ دار اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

زاہدہ شیخ، خواتین کے حقوق کی ایک سرگرم کارکن، نے کہا کہ یومِ آزادی ہمیں جوڑنے کے لیے تھا، مگر اسے مسلمانوں کی توہین کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہ ملک کی روح کے خلاف جرم ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بھاو نگر کا یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ معاملہ نہیں بلکہ ملک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق نفرت کو حب الوطنی کے پردے میں پیش کر کے تعلیمی اداروں تک لے جایا جا رہا ہے۔

اسلم پٹھان، ایک طلبہ رہنما، نے کہا کہ مہاتما گاندھی گجرات سے تعلق رکھتے تھے اور دنیا کو امن و عدم تشدد کا پیغام دیا تھا۔ لیکن آج اسی گجرات میں مسلم لڑکیوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ گاندھی کا ہندوستان ہے اور نہ ہی حقیقی آزادی کا تصور۔