Kavith with KCR

کے۔ کویتا کا پارٹی اور قانون ساز کونسل سے استعفیٰ ۔ چیئرمین قانون ساز کونسل سے فوری ملاقات کا مطالبہ،

تازہ خبر تلنگانہ
کے۔ کویتا کا پارٹی اور قانون ساز کونسل سے استعفیٰ
چیئرمین قانون ساز کونسل سے فوری ملاقات کا مطالبہ،
حیدرآباد:۔ 4 ستمبر
 (زین نیوز)
تلنگانہ کی سیاست میں بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے اندر خاندانی تنازعات اور اندرونی اختلافات اس وقت عروج پر پہنچ گئے جب پارٹی کی سینئر رہنما اور قانون ساز کونسل کی رکن کے۔ کویتا نے بدھ کے روز اچانک اپنے عہدے اور پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔
 اس ڈرامائی پیش رفت کے بعدکے۔ کویتا نے تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین ایس رامچندر راؤ سے استعفے سے متعلق بات چیت کے لیے فوری ملاقات کا وقت طلب کیا ہے۔ چیئرمین نے تصدیق کی کہ کویتا کا استعفیٰ موصول ہو چکا ہے، اور اس پر غور کے لیے کونسل کی اگلی میٹنگ کا شیڈول جلد طے کیا جائے گا۔
 کویتا کا یہ فیصلہ ایک دن بعد سامنے آیا جب انہیں بد نظمی اور پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزامات کے تحت بی آر ایس سے معطل کیا گیا تھا۔ اس استعفے نے پارٹی میں جاری خاندانی کشمکش اور سیاسی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے بی آر ایس کی اندرونی شکست اور بدعنوانی کی سیاست کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
کے۔کویتا نے استعفیٰ کے ساتھ ہی ایک پریس کانفرنس میں اپنے والد اور پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر)، بھائی اور پارٹی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر)، کزن ٹی ہریش راؤ، جے سنتوش راؤ اور دیگر قائدین پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ انہی کے دباؤ اور سازشوں کی وجہ سے نہ صرف انہیں پارٹی سے معطل کیا گیا بلکہ ان کے والد کو سی بی آئی تحقیقات کی زد میں بھی لایا گیا۔
کے۔ کویتا نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے ہریش راؤ کے ساتھ مل کر خاندان اور پارٹی کو توڑنے کی سازش رچی۔کویتا نے کہا، “کے سی آر اور کے ٹی آر میرا خاندان ہیں، اور یہ رشتہ خون کا ہے، جسے پارٹی سے نکالنے یا عہدہ چھننے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
 لیکن کچھ لوگ ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے خاندان اور پارٹی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔” انہوں نے اپیل کی کہ کے سی آر اپنے اردگرد موجود ان عناصر کے اصل ارادوں کو پہچانیں۔ کویتا نے ہریش راؤ اور ریونت ریڈی پر ایک پرواز کے دوران سازش رچنے کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں بی آر ایس کے بیشتر قائدین پر مقدمات درج ہوئے، لیکن ہریش راؤ کو بخش دیا گیا۔۔
 انہوں نے سوال اٹھایا کہ کالیشورم پراجیکٹ کے دوران ہریش راؤ وزیر آبپاشی تھے، لیکن ان کا نام تحقیقات میں کیوں نہیں آیا، جبکہ کے سی آر کے خلاف کارروائی جاری ہے۔کویتا نے مزید الزام لگایا کہ ہریش راؤ نے الیکشن کے دوران ایسی مہم چلائی جس کا مقصد کے سی آر اور کے ٹی آر کو ہرانا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کے ٹی آر بی آر ایس کو بی جے پی میں ضم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ہریش راؤ اور میگھا کرشنا ریڈی بدعنوانی کے معاملات میں کے سی آر کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔
کے۔ کویتا نے دہلی شراب پالیسی کیس میں اپنا نام آنے کا ذمہ دار بھی ہریش راؤ کو ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ، 2 مئی کو ان کا اپنے والد کو لکھا گیا ایک خط لیک ہوا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کے سی آر نے بی جے پی کے خلاف صرف دو منٹ بات کی، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ وہ بی جے پی کے قریب جا رہے ہیں۔کویتا نے واضح کیا کہ وہ بی آر ایس سے علیحدگی کے باوجود کے سی آر اور کے ٹی آر کے ساتھ خاندانی رشتہ برقرار رکھیں گی۔
 انہوں نے اعلان کیا کہ وہ نہ تو بی جے پی میں شامل ہوں گی اور نہ ہی کانگریس میں، بلکہ تلنگانہ جگروتھی کارکنوں اور دانشوروں سے مشاورت کے بعد اپنی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی طے کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوامی مسائل کے لیے آزادانہ طور پر کام کریں گی۔اس واقعے نے تلنگانہ کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔
 اپوزیشن جماعتوں نے کویتا کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بی آر ایس نے اسے اندرونی اختلافات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ کویتا کے استعفے نے پارٹی میں جاری خاندانی سیاست اور اندرونی کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے، اور سیاسی حلقوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے تلنگانہ کی سیاست میں نئی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔
قانون ساز کونسل کے چیئرمین نے بتایا کہ کویتا کی جانب سے ملاقات کے لیے وقت طلب کیا گیا ہے، اور اس استعفے پر غور کے لیے کونسل کی اگلی میٹنگ کا شیڈول جلد طے کیا جائے گا۔ اس صورتحال نے بی آر ایس کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، اور پارٹی کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔