نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کیخلاف نوجوانوں کا شدید احتجاج، فائرنگ میں 19 ہلاک
مظاہرین نے صدر اور وزیر اعظم کی ذاتی رہائش گاہوں کو آگ لگا دی
وزیر داخلہ مستعفی۔ کھٹمنڈو میں مظاہرین کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم
نئی دہلی :۔9؍ستمبر
(انٹر نیٹ ڈیسک)
نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف نوجوانوں کا احتجاج مسلسل دوسرے روز بھی جاری ہے۔ اس میں اب تک 19 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔منگل کو مظاہرین نے صدر اور وزیر اعظم اولی کی ذاتی رہائش گاہوں کو آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی۔
اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم پشپا کمل دہل پرچنڈ، شیر بہادر دیوبا، وزیر داخلہ کے عہدے سے کل استعفیٰ دینے والے رمیش لیکھک اور وزیر مواصلات پرتھوی سبا گرونگ کے گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
ادھر حکومت میں استعفوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب تک 4 وزراء مستعفی ہو چکے ہیں۔ ان میں وزیر داخلہ رمیش لیکھک، وزیر زراعت رام ناتھ ادھیکاری، وزیر صحت پردیپ پوڈیل اور پانی کی فراہمی کے وزیر پردیپ یادو شامل ہیں۔پی ایم اولی نے آج شام 6 بجے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔
نیپال کے وزیر داخلہ رمیش لیکھک نے سوشل میڈیا پر پابندی اور بدعنوانی کے خلاف پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو اپنا استعفیٰ پیش کیا اور کہا کہ وہ سیکورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں پر بہت افسردہ ہیں۔
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو اور دیگر شہروں میں مظاہروں کے دوران اب تک 20 سے زائد افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد خصوصاً جنریشن زیڈ (18 سے 28 سال) کرپشن، بے روزگاری اور سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہے۔پیر کی صبح 12 ہزار سے زائد مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہوئے۔
اس کے بعد سیکوریٹی فورسز نے کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔ پارلیمنٹ ہاؤس، راشٹرپتی بھون، نائب صدر ہاؤس اور وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے ارد گرد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کھٹمنڈو انتظامیہ نے توڑ پھوڑ کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔نیپال کی تاریخ میں پارلیمنٹ میں گھسنے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان حکومت نے سوشل میڈیا ایپس پر عائد پابندی کو ہٹا دیا ہے۔
حکومت نے 3 ستمبر کو سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی تھی۔3 ستمبر کو نیپال حکومت نے فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب سمیت 26 سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔یہ پلیٹ فارم نیپال کی وزارت مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے۔
اس کے لیے وزارت نے 28 اگست کو آرڈر جاری کیا تھا اور 7 دن کا وقت دیا تھا، یہ ڈیڈ لائن 2 ستمبر کو ختم ہو گئی۔نیپال کی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو 7 دن کے اندر اندر رجسٹر ہونے کا حکم دیا تھا۔حکومت نے دلیل دی کہ رجسٹریشن کے بغیر، ان پلیٹ فارمز کو ملک میں جعلی آئی ڈی، نفرت انگیز تقریر، سائبر کرائم اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
4 ستمبر کو حکومت نے 26 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مقررہ وقت کے اندر اندر رجسٹر نہ ہونے پر پابندی لگا دی۔ ان میں واٹس ایپ، فیس بک، یوٹیوب جیسے بڑے پلیٹ فارم شامل تھے۔ ٹِک ٹاک، وائبر جیسے پلیٹ فارمز پر پابندی نہیں لگائی گئی کیونکہ انہوں نے وقت پر رجسٹریشن کرائی تھی۔
یوٹیوب جیسی 26 کمپنیاں کیوں رجسٹرڈ نہیں ہو سکیں؟قوانین کے مطابق ہر کمپنی کے لیے نیپال میں مقامی دفتر رکھنے، غلط مواد ہٹانے اور قانونی نوٹسز کا جواب دینے کے لیے مقامی افسر کو تعینات کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کے ساتھ صارف کا ڈیٹا شیئر کرنے کے قوانین پر عمل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ڈیٹا پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے کمپنیاں یہ شرائط بہت سخت محسوس کرتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہندوستان یا یورپ جیسے بڑے ممالک میں کمپنیاں مقامی نمائندے رکھتی ہیں کیونکہ وہاں صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ لیکن نیپال کا یوزر بیس چھوٹا ہے، اس لیے کمپنیوں کو یہ بہت مہنگا لگا۔
اگر کمپنیاں نیپالی حکومت کی اس شرط کو مان لیتی تو وہ دوسرے چھوٹے ممالک میں بھی ان قوانین پر عمل کرنے پر مجبور ہوتی، جو کہ بہت مہنگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی کمپنیوں نے نیپالی حکومت کی شرط کو تسلیم نہیں کیا اور وقت پر رجسٹریشن نہیں کرائی۔