suicide due to -online gaming

جگتیال میں آن لائن گیمز کی لت نے نوجوان کی جان لے لی 

تازہ خبر تلنگانہ جرائم حادثات
جگتیال میں آن لائن گیمز کی لت نے نوجوان کی جان لے لی 
بی ٹیک کے ترکِ تعلیم کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار
 جگتیال، 18 ستمبر
 (زین نیوز)
ماہرینِ نفسیات بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ آن لائن گیمز کی لت صرف وقت اور تعلیم ہی کو ضائع نہیں کرتی بلکہ یہ دماغی دباؤ، سماجی تنہائی اور شدید نفسیاتی مسائل کو جنم دے کر کئی نوجوانوں کو موت کے دہانے تک پہنچا رہی ہے۔ مختلف مطالعات کے مطابق آن لائن گیمز میں حد سے زیادہ مشغول طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان میں ناکام ہوتے ہیں بلکہ ان میں ڈپریشن، چڑچڑاپن اور خودکشی کے رجحانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
 حالیہ برسوں میں ملک بھر سے ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں طالب علم اور نوجوان کھیل کے نشے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ایسا ہی ایک دل دہلا دینے والا واقعہ تلنگانہ کے جگتیال ضلع میں پیش آیا جہاں آن لائن گیمز کی لت نے ایک اور گھر کو اجاڑ دیا۔
 اطلاعات کے مطابق جگتیال کے ویدیا نگر علاقہ سے تعلق رکھنے والا نوجوان راہول، جو کبھی بی ٹیک کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، تعلیم ترک کرنے کے بعد طویل عرصے سے گھریلو ماحول میں ہی وقت گزارتا تھا۔ تنہائی اور بیکار وقت نے اسے موبائل پر آن لائن گیمز کھیلنے کا عادی بنا دیا۔
پولیس کے مطابق وہ روزانہ کئی گھنٹوں تک گیمز کھیلنے میں مصروف رہتا تھا جس پر والد سری نیواس نے اسے ڈانٹا۔ والد کی یہ سرزنش راہول کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوئی اور وہ شدید ذہنی دباؤ میں آ گیا۔ مایوسی اور غصہ کے عالم میں اس نے اپنے ہی گھر میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ اچانک پیش آنے والے اس حادثے نے گھر میں صفِ ماتم بچھا دی۔
 اکلوتے بیٹے کی موت پر والدین غم سے نڈھال ہو کر بلک بلک کر رو پڑے۔اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا آن لائن گیمز نئی نسل کی زندگیاں نگل رہی ہیں؟ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ والدین، اساتذہ اور حکومت سنجیدگی سے ایسے کھیلوں پر قدغن لگانے کے لیے اقدامات کریں؟پولیس نے مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ مقامی عوام میں شدید دکھ اور غم کی فضا چھا گئی ہے