حیدرآباد میں برقع پوش لڑکی کے ساتھ نوجوان کا بائیک رائیڈنگ‘ خطرناک اسٹنٹ
حیدرآباد:۔16؍ستمبر
(زین نیوز)
سوشل میڈیا کی لَت، لائکس اور فالوورز کی دوڑ نے نوجوانوں کو زندگی کے سب سے قیمتی اثاثے یعنی اپنی اور دوسروں کی جان سے کھیلنے پر آمادہ کر دیا ہے۔ حیدرآباد کی سڑکیں اور فلائی اوور اب محض آمدورفت کے راستے نہیں رہے بلکہ انسٹاگرام ریلز اور وائرل ویڈیوز کا اسٹیج بن چکے ہیں۔
نوجوان نہ صرف خطرناک بائیک اسٹنٹس اور وہیلنگ کرتے ہیں بلکہ اپنی گرل فرینڈز کو بھی ساتھ بٹھا کر سڑکوں پر موت کے کھیل کھیلتے ہیں۔ یہ غیر ذمہ دارانہ حرکات ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ حادثات کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔
گزشتہ اتوار، 14 ستمبر کو اولڈ سٹی کے چارمینار کے قریب میلاد النبی کے جلوس کے اختتام پر ایک اور ایسا ہی خطرناک منظر دیکھنے میں آیا۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک نوجوان بائیک پر وہیلنگ کرتا دکھائی دیا جبکہ اس کے پیچھے ایک برقع پوش لڑکی سوار تھی۔ اس حرکت سے نہ صرف دونوں کی جان خطرے میں پڑ گئی بلکہ دیگر شہریوں کی زندگی بھی خطرے کی زد میں آ گئی۔
اطلاعات کے مطابق مذکورہ نوجوان اپنے دوستوں کے قریب سے گزرا جنہوں نے یہ منظر موبائل فون پر ریکارڈ کیا اور بعد ازاں انسٹاگرام ریلز کے طور پر اپ لوڈ کیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ تو کسی نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اور نہ ہی حفاظتی اقدامات اختیار کیے گئے تھے، جبکہ بائیک میں سائلنسر بھی موجود نہیں تھا، جو ٹریفک قوانین کی ایک اور کھلی خلاف ورزی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں ہے
۔ اس سے قبل اگست میں بندلا گوڈا روڈ پر بھی دو نوجوانوں کو بائیک اور اسکوٹر پر وہیلنگ کرتے ہوئے فلمایا گیا تھا۔ اسی طرح منموہن سنگھ فلائی اوور پر چند نوجوان کاروں کے بونٹ پر بیٹھے دکھائی دیے، جہاں اکثر ویک اینڈ پر آٹو رکشہ ریس اور بائیک اسٹنٹس کا "تماشہ” جاری رہتا ہے۔
مزید برآں، شمش آباد کے قریب آوٹر رنگ روڈ (ORR) پر بھی دو لگژری کاروں کو خطرناک انداز میں اسٹنٹس کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس نے عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ان بڑھتے واقعات نے شہر میں رات کے اوقات میں پولیس کی گشت اور نگرانی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہری حلقوں اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ بائیک رائیڈنگ کا جنون کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے