ضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم
(ترجمان و سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اللہ اکی اس دنیا میں بعثت کا مقصد جہاں مخلوق کو اس کے خالق سے جوڑنا تھا ، وہیں یہ بھی تھا کہ انسان نے اپنے آپ پر خود ساختہ رسم و رواج کا جو بوجھ رکھ لیا ہے، اس کو اس سے آزاد کیا جائے : ’’ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمُ‘‘( الاعراف : ۱۵۷) چناچہ اسلام سے پہلے لوگوں نے بہ طور خود جو مشکل قوانین اپنے آپ پر مسلط کر لئے تھے، قرآن نے ان کو دور فرمایا، اور ایسے احکام دیئے جو انسانی مصلحت سے ہم آہنگ بھی ہیں اور ان کے لئے قابل برداشت بھی، اسی لئے قرآن نے بہ طور اُصول یہ بات کہہ دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی شخص کو اس کی قوت اور گنجائش کے لحاظ سے ہی احکام کا مکلف بناتے ہیں : ’’ لَا یُکَلِّفَ اﷲُ نَفْسٰا اِلَّا وُسْعَھَا‘‘ (البقرۃ:۲۸۶) نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ اپنے بندوں کو حرج اور تنگی میں مبتلا کرے؛ بلکہ وہ تو سہولت و آسانی اور کشائش و فراخی چاہتا ہے : ’’ یُرِیْدُ اﷲُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ ‘‘ ۔(البقرۃ:۱۸۵)
جیسے اللہ تعالیٰ نے عبادات کو آسان رکھا ہے، اور اللہ کی بندگی کے سیدھے سادھے بے خرچ کے اور کم خرچ کے طریقے رکھے ہیں ، معاملات کو اللہ نے اس سے بھی زیادہ آسان رکھا ہے اور جیسے اللہ نے اپنے تکوینی نظام میں ایسی چیزوں کو جو مخلوق کے لئے ناگزیر ہیں، وافر مقدار میں رکھا ہے اور بے قیمت و محنت فراہم کی ہیں، جیسے پانی اور ہوا ، اسی طرح نظامِ شریعت میں بھی انسانی زندگی کی فطری ضروریات کو آسان رکھا گیا ہے، ان ہی ضروریات میں ایک نکاح ہے ، نکاح انسان کی فطری ضرورت ہے ، جس سے ایک طرف نسل انسانی کی افزائش متعلق ہے اور دوسری طرف اخلاق و کردار اور قلب ونگاہ کی حفاظت ؛ اسی لئے اسلام میں نکاح کی بڑی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، آپ انے نوجوانوں کو تلقین فرمائی کہ بہ شرطِ قدرت وہ جلد نکاح کر لیا کریں، لڑکیوں کے اولیاء سے فرمایا کہ مناسب رشتے ہاتھ آجائیں تو شادی میں تاخیر نہ کی جائے، آپ انے نکاح کو اپنی اور انبیاء سابقین کی سنت قرار دیا، اور تجرد کی زندگی کو ناپسند فرمایا۔
نکاح کو آسان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حلال کو آسان کیا جائے تو حرام سے بچنا بھی آسان ہوگا اور اگر حلال کو دشوار کر دیا جائے تو حرام سے بچنا بھی دشوار ہوگا؛ چنانچہ جن ممالک میں نکاح کی شرح کم ہے اور تجرد کی زندگی گذارنے والوں کا اوسط زیادہ ہے ، وہاں زنا اورفواحش کی کثرت ہے، وقتی سکون حاصل کرنے کے لئے منشیات کا استعمال عام ہے، خاندانی نظام بکھر چکا ہے اور برائیاں ایک سیلابِ بلابن کر سماج کے رگ و ریشہ میں سماگئی ہیں، اس لئے کوئی بھی ایسی بات جو نکاح کا راستہ روکنے والی ہو اور لڑکوں یا لڑکیوں کو تجرد کی زندگی پر مجبور کرتی ہو سماج کے لئے سمِ قاتل ہے۔
آج جو چیزیں شادی بیاہ کے معاملہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، ان میں سرفہرست جہیز اور گھوڑے جوڑے کا مسئلہ ہے ، اس رواج نے سماج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ، اس کا سب سے شرمناک پہلو محض جہیز کے لئے شادی شدہ عورتوں کو جلانے اور ہلاک کرنے کے واقعات ہیں ، یکم اگست ۱۹۹۱ء کی بی ، بی ، سی کے ایک نشریہ کے مطابق ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۹ء میں گیارہ ہزار سے زیادہ ہندوستان میں جہیزی اموات کے واقعات ہوئے ہیں، ۱۹۹۴ء میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر دن جہیز کے مسئلہ کی وجہ سے سترہ اموات واقع ہوئی ہیں، ۱۹۹۷ء میں چھ ہزار سے زیادہ جہیزی اموات کے واقعات ہوئے، ۱۹۴۷ء سے چالیس سال کے عرصہ میں بہتر ہزار نوجوان عورتیں ہندوستان میں جہیز کی نزاع کی وجہ سے مار ڈالی گئیں۔ (دیکھئے : ماہنامہ ہدایت، جے پور ، جلد : ۸ ، شمارہ : ۹، صفحہ : ۲۵- ۲۶)
جہیز کے اس ناروا رسم و رواج نے جسم فروشی کو بھی بڑھاوا دیا ہے، ایک سروے کے مطابق ملک میں گیارہ سو ایسے علاقے ہیں جو جسم فروش کے لئے بد نام ہیں، ۲۳ لاکھ عورتیں پیشہ ورانہ طور پر اس بُرائی میں مبتلا ہیں اور ان کے بچوں کی تعداد اکیاون لاکھ ہے ، سروے کے مطابق ہر سال ۲۵ ہزار لڑکیاں اس حیا سوز پیشہ میں داخل ہورہی ہیں ، ( سہ روزہ دعوت ، نئی دہلی ۱۶ ؍ اپریل ۱۹۹۹ء) — اسی طرح لڑکیوں کی قبل از پیدائش قتل کا سلسلہ بھی روز افرزوں ہے، اسی لئے جنوری ۱۹۹۶ء میں دورانِ حمل جنس کی شناخت کی غرض سے الٹراسونو گرافی پر پابندی عائد کی گئی؛ لیکن کتنے ہی جوڑے ہیں، جو اس پابندی کو خاطر میں نہیں لاتے؛ چنانچہ ہندوستان میں ہر سال ایک کروڑ بارہ لاکھ اسقاطِ حمل کے واقعات ہوتے ہیں، اور ان واقعات میں ہر سال بیس ہزار عورتیں موت کا شکار ہوجاتی ہیں، ( اسلامی نظام معاشرت اور جہیز کر پہنچا جائے۔
اس سلسلہ میں دوطبقہ کی ذمہ داریاں سب سے زیادہ ہیں، ایک تو علماء اور مشائخ کی ، کہ وہ ایسی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں ، جن میں لین دین کی بنیاد پر نکاح کیا گیا ہو اور غالباً ان کا یہ فعل منشا شریعت کے بھی مطابق ہوگا ، دوسرے قوم کا متمول اور صاحب ثروت طبقہ جو اسراف اور فضول خرچی پر قادر ہے، اس کے باوجود وہ شادی بیاہ کی تقریب کو سادگی سے انجام دے تو فضول خرچی کی یہ دوڑ کم ہوگی اور متوسط اور غریب گھرانوں کے لئے اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا ، سال ڈیرھ سال پہلے شہر کے ایک بڑے مسلم صنعت کار نے سادہ طریقہ پر اپنی لڑکی کی شادی کی رسم انجام دی ، اخبارات نے بھی اس پر بڑی مسرت کا اظہار کیا اور مختلف حلقوں پر اس کا اچھا اثر پڑا — کاش! ہم سماج کی اس مجبوری کو محسوس کریں اور حقائق کی کڑواہٹوں کو نہ صرف گوارا کریں ؛ بلکہ ان کو سامنے رکھ کر اپنے حالات میں کچھ انقلابی تبدیلیاں لائیں ۔
🎁 سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ