معاشرہ کی اصلاح وفساد میں مشاطاؤں اور میریج سنٹرس کاکردارلمحہ فکریہ

تازہ خبر مذہبی

ازقلم عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد
9505057866
کسی بھی سماج ومعاشرہ کی صلاح وفلاح اور درستگی میں قوم وملت کے ہر فرد کا جس طرح تعاون ضروری ہوتاہے تاکہ ان سب کی اجتماعی محنت وفکروں کی بنیاد پر صالح معاشرہ کا ڈھانچہ سامنے آے بالکل اسی طرح کسی سماج کے بگاڑاورفساد میں بھی کہیں نہ کہیں ان افراد کارول اور کردارشامل ہوتا ہے معاشرہ کے فساد کی وجوہات شادی بیاہ کے موقع پر لی جانے والی جہیز کی موٹی موٹی رقم گھوڑے جوڑے اورگاڑی کے نام پر وصول کیا جانے والا مالی معاوضہ آج سماج میں کیوں پروان چڑھ رہا ہے ؟ کیوں اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہوپارہا؟اگر اس کی بنیادی وجوہات کی جانب نظر کی جاے تو کہیں نہ کہیں ان برائیوں کے فروغ میں پیامات سنٹر کے ذمہ دار مرد وخواتین اور مشاطاؤں کا جانبدارانہ کرداربھی سامنے آتاہے جو محض اپنا فی صد اور کمیشن پانے کی خاطر ایسے ایسے کام انجام دیتے ہیں جن سے فساد معاشرہ کاارتکاب لازما وجود میں آتا ہے شہر میں کئ ایسے افراد اور خواتین ہیں جوباہمی رشتوں کو ملانے اور ایک دوسرے سے تعارف کرانے کاکام کرتے ہیں جو بجاے خود ایک نیک کام اور اچھا عمل ہے لیکن ان کے ذریعہ سے وجود میں آنے والا یہ رشتہ اگر غیر جانبداری اور خلوص نیت سے کام لیا جاے تو تمام ہی غیر شرعی امور سے پاک وصاف ہوسکتاہے لیکن افسوس…………..؟
گذشتہ دودن قبل راقم سطورسے ایک صاحب نے اور آج بھی ایک دوست نے اپنے رشتہ کے تعلق سے ذکر کرتے ہوے اس حقیقت کا انکشاف کیا کہ خود مشاطائیں یہ بات بول کر رشتہ لگاتی ہیں کہ ہم آپ کو لڑکی والوں سے اتنی اتنی رقم اور گاڑی اور قیمتی جہیز دلائیں گے آپ ہمارا کمیشن ہم کو دے دیں اور لڑکی والوں کویہ باور کرایا جاتاہے کہ آپ کی لڑکی میں فلاں فلاں نقص ہے اگر کچھ رقم زیادہ دے دیں تو ہم آپ کا رشتہ فلاں سے کروادیں گے وغیرہ وغیرہ

خیال آیا کہ سب سے پہلے تو آپسی رشتوں کے جڑنے کا سبب یہی لوگ بن رہے ہیں اگر انہی میں جہیز اور جوڑے کی رقم کو ختم کرنے کا احساس نہیں ہے تو کیسے اس برائ سے ہم معاشرہ کو نجات دلاکر آسان ومسنون نکاح کو رواج دے سکیں گے یقینا آپ اپنا کام کریں اور اپنا محنتانہ باضابطہ جانبین سے وصول کریں لیکن دلہے والوں کو مال وزر کا لالچ دلاکر لڑکی والوں لڑکی کی خامیوں کو واضح کرکے ان کو مال وزر دینے پر جبرا آمادہ نہ کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ جب پہلی اینٹ صحیح سلامت رکھ دی جاے تو بہت ممکن ہے کہ ان برائیوں کا خاتمہ بآسانی ہوسکے گا

راقم سطور کویہ سن کر بڑا دکھ ہو اتحقیق حال کے لےءایک صاحب علم سے دریافت کیاتو ہوش اڑگئے کہ ہاں واقعہ ایسا ہی ہوتاہے اور ہورہا ہے کہ پیامات سنٹرسے رابطہ کرو تو اولا اپنی فوٹو اور بائیوڈاٹا تفصیلات حوالہ کرتے ہی ایک ہزار روپیہ رجسٹریشن فیس لگتی ہے پھر موقع بہ موقع آپ سے رقم وصول کی جاتی ہے اورلڑکی والوں سے بھی یہی معاملہ ہوتا ہے نیز اگر جوڑے کی رقم مثلاایک لاکھ روپیہ دلای جارہی ہے تو اس میں سے دس ہزار روپیہ ان مشاطاؤں کا حصہ ہوتاہے اپنے حصہ کو یقینی بنانے کے لےء لڑکی والوں سے زیادہ سے زیادہ مقدار میں جوڑے رقم دلانے کی کوشش اور فکر کی جاتی ہے مزید اگرگاڑی وغیرہ بھی طےء ہوجاتی ہے تو اس پر کمیشن الگ سے لڑکے والوں پر واجب ہوجاتا ہے بہرکیف اگر واقعہ یہی ہے توپھر امت مسلمہ کے لےء یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

اس پر پوری سنجیدگی اور متانت سے سوچنے سمجھنے اور لائحہ عمل تیارکرنے کی ضرورت یے ہم اس حوالہ سے بس اتنی گذارش کرنا چاہتے ہیں کہ درمیان میں رشتہ لگانے والے احباب اپنی محنت ضرور لیں اپنی فیس جانبین سے اپنا حق سمجھ کر وصول کریں لیکن خدارا اس موقع پر آپ اسلامی نکاح اور مسنون شادی کا تصوراور احساس جانبین کے دل میں پیداکریں خواہ مخواہ اپنے مفادکی خاطر سامنے والوں کو غیراسلامی وغیر شرعی امور میں مبتلا نہ کریں تو ایک اچھی سوسائٹی ایک اچھا ماحول ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینے میں آپ بھی برابر کے اجر وثواب کے حق دار کہلائیں گے اگریہ خشت اول اسلامی بنیادوں پر اچھی نیت سے رکھی جاے تو بعد کے مراحل کی عمارت بھی صالح انداز میں قائم ہوسکتی ہے اللہ پاک سب کو توفیق عمل نصیب فرماے اصلاح معاشرہ میں ہر فرد اور سوسائٹی کو اپنےکردار کا احساس نصیب فرماے آمین