وہ کوہ کن کی بات گئ کوہ کن کےساتھ۔ ۔ آہ…..مولانانورعالم خلیل امینی

تازہ خبر مضامین

از قلم : عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد تلنگانہ9505057866
بین الاقوامی شہرت یافتہ عربی زبان وادب میں ایوارڈ یافتہ عالم دیناردوزبان کی نوک وپلک کوسنوارنے والے مشہور قلمکار کی وفات پر انہی کے ادب سے چند جملے عاریۃ لے کر اک کرب ودرد کے ساتھ غم والم کی سیاہی میں اپنے قلم کو بھگوکر تعزیتی پیغام لکھنے کو جی چاہا
بیسویں رمضان المبارک کی سحرنوشی وتناول طعام سے فراغت کے بعد جوں ہی گھر کے کتب خانہ پر نظر پڑی تو آپ ہی کی تصنیف وتحریر کردہ ادب کی شاہکار کتاب استاذمحترم مولانا وحیدالزماں قاسمی کیرانوی کی سوانح حیات وہ کوہ کن کی بات پر نظر پڑی چیدہ چیدہ اسی وقت چنداوراق پرنگاہ ڈالی اور درج ذیل الفاظ کا انتخاب کرکے چند سطور لکھ دیا وہ کوہ کن کی بات گئ کوہ کن کے ساتھ…..

آپ ایک ایسے انسان تھے جن کو خودان کے قلم سے لکھی داستان کے مطابق ایساانسان کہنا چاہیے جو اپنے جنوں کی کافر ادائیوں اورجرأت باغیانہ سے بدل دے مقدرپلٹ دے زمانہ کامصداق کہاجاسکتا ہے بہ قول علامہ حالی..ہم جس پہ مررہے ہیں وہ ہے بات ہی کچھ اورعالم میں تجھ سے لاکھ سہی تومگر کہاں آپ ہرمیدان میں انفرادیت روشن دماغی فکررساکی تابانی شوق سفر ذوق جستجو حصولہ علم کے مالک ہروقت محوسفربلکہ آمادہ صحراءنوردی رہتے آپ کا ذہن رفعت آشنا اس جہان مرغ وماہی کے کسی بھی تنگ ناے سےگزرکرصیدافگنی کواکب پرآمادہ کرتا رہتانیزمقصدکی حرارت عزائم کی ہلچل جنوان ارجمند کی فسوں کاری پیہم صداے جرس اورشورکاررواں کاشرمندہ احسان ہونے سے انھیں بے نیازکردیتی کہ وہ اب سبک خرامی کے طفیل منزل تک پیش قدمی کرکے سب سے پہلے رحل اقامت اتارلینے کی سعادت حاصل کرلیتے

مولانامرحوم کی علمی عملی فنی تاریخی اور سادہ مگر دیدہ زیب ونفاست پسند زندگی کو کیا بیان کیا جاے آپ حقیقت میں عالم کے نور ہی تھے جس کو الفاظ کے قالب میں ڈھالنا بہرحال ایک مشکل ترین کام ہے راقم سطور کو بھی آپ سے دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تکمیل عربی ادب کی مائناز کتاب المختارات العربیہ پڑھنے کاشرف حاصل ہوا ایک سال مکمل زانوے تلمذ طے کرتے ہوے آپ کے ادبی وعلمی فیوض کے جام شیریں سے جرعہ نوشی کی سعادت ملی میں چونکہ صف اول میں بیٹھتا تھا تو روزآنہ بلاناغہ مجھ سے کتاب کا درس سناکرتے تھے

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اعتکاف کے مسائل سے واقف ہیں

آپ انتہای سلیقہ مند گفتگو کرتے اورشستہ تحریر لکھتے تھے اور عربی زبان کی آمد تو ایسے تھی جیسے کسی عربی کو بھی دیوانہ بنادے درس کے مختلف جملوں کی مختلف تعبیرات اور ایک ایک لفظ سے کئ کئ کلام بنانے کا خاص وصف آپ میں تھا مجھے یاد ہیکہ ہمیشہ آپ دوران درس یوں کہاکرتے تھے کہ ہم عربی زبان کو عربیت کے لہجہ میں پڑھیں اور اس کااردو ترجمہ کرتے وقت لکیر کے فقیر کی طرح ترجمہ نہ کریں بلکہ وہ ترجمہ کریں جس کو اردو زبان قبول کرتی ہے

راقم نے آپ کی اسی مذکورہ کتاب کا مختلف تراجم کو سامنے رکھ کر ایک جامع عام فہم ترجمہ الترجمۃ الاردیۃ الجزلہ منالمختارات العربیہکے نام سے لکھا تھا جس کو آج بھی الحمد للہ احاطہ دارالعلوم کے اس شعبہ میں قبولیت حاصل ہے برسوں سے طلباء اس کی زیراکس بناکر استفادہ کررہے ہیں اس پر آپ شدید ناراض بھی ہوتے کہ بعد والوں کی صلاحیتوں کومنجمد اورخراب کرنے کا کام اس نے کرڈالا لیکن خوش بھی ہوتے تھے

اس بات سے کہ العلم صید والکتابۃ قید کے تحت اس نے ایک اچھا اور بہترین ترجمہ قلمبند کیا اور دعائیں بھی دیتے رہے اللہ پاک آپ کو غریق رحمت کرے ہم تمام ہی شاگردوں کی جانب سے بہترین بدلہ اور جزاے خیر دے آپ کے جملہ پسماندگان متعلقین ومحببین اور نسبت رکھنے والوں کو صبر جمیل عطاء فرماے آمین