ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء امام وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد
یو ایس اے کے ایک بے تکلف عزیز و قریب ترین دوست سے ہوی طویل ترین گفتگو اور موجودہ عالمی وبائی مرض کورونا وائریس کے پھیلنے اور اس کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے لگائے گئے لاک ڈاون اور مختلف پابندیوں نیز ملک کی معیشت اور قوم وملت کے یومیہ کمانے والے افراد اور چھوٹے تاجرین کے حوالہ سے باہمی اظہار خیال وتبادلہ معلومات میں سے چند وہ باتیں جس میں حقیقت اور سچای نظر آی راقم سطور نےایک سبق اور عبرت کے طور پر اس کو تحریر کررہا ہے
اسی امید کے ساتھ کہ ہم کوتوفیق فہم مل جاے اور ہم بھی پورے احتیاط کے ساتھ حکومتی گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہوکر اپنی اور اپنوں کی زندگیوں کو بحال کرلیں اور اس بیماری سے نجات حاصل کرسکیں اللہ پاک پوری انسانیت کی حفاظت فرمائے
آمنہ
گذشتہ دوسال سے اس مرض کی سنگینی اورغیر معمولی شیوع کے حوالہ سے دنیا کی مختلف ایجنسیاں اور الگ الگ محکمہ جات کی جانب سے انسانیت کو باخبرکیا جاتا رہا حکومتوں نے اپنی ذمہ داری سمجھ کر لاک ڈاون اور دیگر طریقوں سے اس پر قابو پانے اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرانے کے لیے کوشاں وسرگرداں رہیں اور اب بھی ہیں
باوجود اس کے اطلاعات کے مطابق 32 فی صد یہ بیماری کا ہمارے ضلع سے خاتمہ ہوا ہے اور تناسب کے اعتبار سے ابھی وباء موجود ہے اس لےء احتیاط ہی کو ترجیح دی جاے
یہ وبای مرض 2019 کےاواخرمیں وجود میں آیا اور سب سے پہلے یورپین ممالک ہی اس کی زد میں آے اور لگاتار مسلسل اموات اور متاثرین کی کافی بڑی تعداد میں خبریں بھی موصول ہوئیں اور سوشل میڈیا ودیگر الکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے ذریعہ خوب اس کو عام کیا گیا دیکھتے ہی دیکھتے یہ وباءنے سارے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سب انسانوں کی زندگیوں کو منجمد کرکے چھوڑدیا
ہنوز یہی حالت اب تک چل رہی ہے
میں نے وہاں کےاحوال دریافت کیے تو معلوم ہوا کہ شروع ایام میں دوماہ تک لاک ڈاون نافذ تھا لیکن اس کے بعد سے تاحال کوی لاک ڈاون انڈیا کی طرح نہیں لگایا گیا کاروباری سرگرمیاں عبادات وضروریات زندگی سب الحمد للہ بحال ہیں کام کاج دوکان مکان سب برابر ہیں بس یہاں لوگوں کے پاس وقت کم اور کام زیادہ ہوتا ہے اس لےء کوی بھی انسان بلاضرورت نہ گھر سے نکلتا ہے نہ ہی وقت ضائع کرکے سڑکوں اور چوراہوں پرگھومتا ہے نہ غیر ضروری مشاغل پر توجہ دیتا ہے شاید یہی وجہ ہیکہ بہت جلد اس وباء پر قابوپالیا گیا
نیز کہا کہ وبائی بیماری کے ایام ہوں یا عام حالات ہروقت یہاں لوگ اپنی ضرورت ہی کے واسطے باہر نکلتے ہیں
ہاں البتہ جومقامات براے تفریح ہیں جیسے پارک ریسٹورینٹ بار وغیرہ تو یہ سب بند ہیں ان پرابھی بھی پابندیاں عائد ہیں یہاں حکومتی اداروں کا کہنا ہیکہ ضرورت انسانی مقدم ہے خواہش انسانی پرانسانی ضرورت روٹی کپڑا مکان ہیں جو قوام زندگی ہے ہاں البتہ اچھا کھانا اچھا پہننااچھی رہائش اختیارکرنا گھومنا پھرنا تفریح کرنا پارک اور ہوٹلنگ کرنا یہ سب حظ نفس اورخواہش انسانی ہے لہذا ان مقامات کو بند رکھا گیا باقی ضرورت زندگی والی اشیاء سب کھلی ہیں
راقم سطورنے غور کیا تو اس نتیجہ پر پہونچا کہ ہمارے اپنے علاقوں میں ضرورت سے زیادہ خواہشات کو ترجیح دی جاتی ہے ہمارے پاس سیر وتفریح بلا ضرورت بازاروں میں گھومنا ہوٹلنگ کرنا شاپنگ کرنا ایسے تمام امور جو زندگی کی ضرورت نہ ہونے کے باوجود اہمیت کے حامل بنے ہوے ہیں جس کی وجہ سے آج اس وباء پر قابو پانے میں شاید وقت درکار ہورہا ہے جس کی وجہ سےضرورت مند بھی محبوس ہوکر رہ گیا
شاید اسی لےء باربار اپیل اور درخواست کی جارہی ہیں کہ ضرورت کے تحت ہی گھر سے نکلا جاے بناکسی سخت ضرورت کے گھروں سے نہ نکلیں بس فرق صرف اتنا ہیکہ ہم نے ضرورت کے مفہوم کو وسیع کردیا اور دیگر ممالک والوں نے ضرورت کو ضرورت ہی تک محدود رکھا اسی لئے وہاں ایسا لاک ڈاون نہیں ہے جس کی وجہ سے ضرورت مند انسان کو پریشانی کا سامنا ہو
کاش کہ ہم لوگ بھی اس بات کو زندگی کے ہر موڑپر سمجھ پاتے کہ حق نفس مقدم ہےحظ نفس کے مقابلہ میں ہمیں حق نفس یعنی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر اسی کی تکمیل کے لےء دوڑ دھوپ کرنا یہ عقلمندی نہیں ہے
آج عام شہروں اور بڑے رقبہ والے علاقوں یاکالونیوں میں یہ بات دیکھی جارہی ہیکہ کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہمارے لوگ بے تحاشہ سڑکوں پر بازاروں میں گلی کوچوں میں دندناتے پھررے ہیں سمجھانے پر بھی کوئ عمل آوری کی جانب توجہ نہیں دی جارہی ہے علماء کرام کی جانب سے گذارشات محکمہ صحت کی جانب سے اپیل محکمہ پولیس کی جانب سے درخواست سب کچھ بے سود ثابت ہورہے ہیں
خدارا حکومتی ہدایات پر پوری سنجیدگی سے عمل پیرا ہوں اور عوام وخواص کی معیشت کو مزید ابتر ہونے سے بچانے کےلئے ہرشہری اپنی ذمہ داری کو سمجھیں مجموعی اعتبار سے ان حالات میں روزمرہ کماکر کھانے والے افراد معاشی بحران کے زیارہ شکار ہوتے جارہے ہیں مذہبی سرگرمیاں دینی ودنیوی تعلیم بھی ہنوز تعطل کا شکار ہیں جس کی وجہ سے طلباء وطالبات میں عدم شوق کی فضاء عام ہوتی جارہی ہے ان سب حالات کےپیش نظر ہم کو بہت زیادہ احتیاط کرکے جلد ازجلد از وباء پر قابو پانے میں حکومت کی مدد کرنا چاہیے
اللہ پاک پوری انسانیت کو نجات عطاء فرمائے
آمین
