( پس منظر اور احوال )
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی

جنرل سکریٹری جمیعۃ علماء امام
وخطیب مسجد اسلامیہ نظام آباد تلنگانہ
9505057866
سوشل میڈیا کے ذریعہ اس بات کو یاد دلایا گیا کہ ملک کی تاریخ میں 30/مئ 1866 کوایک عظیم انقلابی جدوجہد اور تحریک کا آغاز ہواتھا جس کو تاسیس دارالعلوم دیوبند سے یادکیا جاتا ہے جس کے155سال مکمل ہوچکے ہیں اوریہ مختصر تحریک اور علمی پودہ الحمد للہ آج ایک تناوردرخت بن چکا ہے جس کو اگر آیت قرآنی اصلھا ثابت وفرعھا فی السماء سے معنون کیا جاے تو شاید غلط نہ ہوں۔۔۔۔

راقم سطور نے سوچا کہ اس موقع پر تاریخ دارالعلوم دیوبند کے حوالہ سے کچھ حقائق آج صرف ملت اسلامیہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے سامنے لاے جائیں چنانچہ درج ذیل کلمات لکھے گئے۔۔۔۔
یوں تو اس گلشن قاسمی کی تاریخ اتنی طویل ترین اور مبنی بر حقیقت ہے کہ کوی دشمن بھی اس کو چاہ کر فراموش نہیں کرسکتا
دنیا جانتی اور مانتی ہیکہ 1857کے پریشان کن انتہای پر آشوب اور صبر آزما حالات سے ملت اسلامیہ ہندیہ گزری ہے جس کو یاد کرتے ہوے آج بھی دل خون کے آنسو روتا ہے ان واقعات وحالات کو پڑھتے اور سنتے ہوے کلیجہ منھ کو آنےلگتا ہے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے اور بدن میں کپکپی طاری ہونے لگتی ہے
مسلمانوں کو انگریز سامراج سے بغاوت کی کٹھن اور جان گسل سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ایک طرف ان کےلۓ جگہ جگہ دارورسن کے انتظامات کۓ گۓ تھے تو دوسری طرف انہیں اپنوں اور غیروں کے طعنوں کابھی سامنا تھا کہیں توپوں کے دہانے ان کے لۓ کھول دیئے گئے تھے تو کہیں قیدوبند کی صعوبتیں ان کی منتظر تھیں کن کن مشکلات ومصائب سے مسلمانوں کودوچار ہونا پڑااگر اس کی تاریخ لکھی جاے تو میں سمجھتا ہوں ایک دفتر درکار ہوگا گرچیکہ ماضی کی تاریخ کتابوں میں اور بعض سینوں میں محفوظ ہیں

ان سب حالات سےگذرنے کے باوجود ہمارے اکابرواسلاف اور مجاہدین آزادی نے انگریزی ظلم وجبر اور اپنوں کے شکوہ وشکایات اور انگریزوں کی چیرہ دستیوں کا گلہ کے بغیر اگر کسی فکر کو جگہ دی اور ان کے پاک ذہنوں میں کوی خواب آیا تو وہ صرف اور صرف قوم مسلم کے ایمان وعقائد کے تحفظ کی فکر دامن گیر تھی انہیں اگر ڈرہوا تو صرف اس بات کا کہ کہیں مسلمان قوم انگریزی اور مغربی تہذیب کی یلغار میں بہہ نہ جاے چونکہ انگریزی تہذیب کا یہ سیل رواں پوری قوت وجرأت اور تیزگامی کے ساتھ ہمارے ملک میں پھلتا جارہا تھا ان اکابر علماء وقائدین کو اس بات کی فکر لاحق ہوگئ کہ ہندوستانی نسل کی اپنی ملکی تہذیب اور مسلمانوں کی اسلامی تہذیب پر کہیں ان انگریزوں کے حملے نہ ہوجائیں ورنہ پھر ان سے تحفظ ممکن نہ ہوسکے گا
چنانچہ انہیں فکروں کو لے کر اسی عظیم مقصد کے پیش نظر اس وقت ہندوستان میں کئ تحریکوں کا آغاز ہوا مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمۃ اور ڈاکٹر سر سید احمد خان علیہ الرحمۃ دونوں ایک ہی استاد مولانا مملوک علی کے شاگرد تھے ان حضرات اور حاجی عابد حسین علیہ الرحمۃ مولانا فضل الرحمان مولانا ذوالفقار صاحب اور دیگر علماء نے اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی کہ فی الحال ہماری پسپای کے بعد سب سے پہلے ہمیں اس سیلاب کو روکنے کے لۓ ایک خاموش تعمیری تحریک کی اشد ضرورت ہے جو انگریزوں سے مزاحم بھی نہ ہو اور اپنا تحفظ بھی ہوجاے ان مذکورہ مدبرین قوم وملت نے پوری گہرای وگیرای سے اپنی ناکامی وپسپای کے اسباب پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہونچے کہ سب سے بنیادی وجہ تعلیمی پسماندگی سیاسی عدم بصیرت اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے

اگر صحیح اور حقیقی معنی میں تعلیم پر گرفت کرلی جاے اور شرح خواندگی کو مضبوط ومستحکم بنالیا جاے توباقی وجوہات سے آسانی کے ساتھ نمٹا جاسکتا ہے چنانچہ وقت کی نزاکتوں اور حالات کاجائزہ لے کر ان بزرگان دین نے ایک وسیع اور جامع منصوبہ بنایا اور دیوبند نامی ایک گمنام بستی میں انار کے درخت کے نیچے ایک استاد اور ایک شاگرد کے ساتھ30/مئ 1866 میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی پہلے استاد ملامحمود دیوبندی اور پہلے شاگرد مولانا محمود الحسن(شیخ الہند)قرار پاے ان دونوں محمود سے اللہ پاک نے اسی دارالعلوم دیوبندی کو آج پوری دنیا میں ہی محمود بنادیا دار العلوم دیوبند کسی ایک تعلیمی ادارہ یا صرف درودیوار کا نام نہیں تھا بلکہ ملک ہندوستان اور ہندوستانی تہذیب کے تحفظ اور اسلام وشعائراسلام کی حفاظت کی یہ ایک منصوبہ بند تحریک تھی جس کو انتہای خاموشی کے ساتھ ریاء ونمود سے بالکل دوررہ کر قائم کی گئ تھی الحمد لللہ اس تحریک نے بوریہ نشینوں کی ایک ایسی جماعت تیار کردی جنہوں نے ملک کو آزاد کرانے میں تاریخ کے ایک ایک ورق پر اپنی جگہ بنالی ملک وملت کے تحفظ اور بقاء کے لۓ انہیں افراد نے اپنی جانوں تک پرواہ نہیں کی اور بے خطر میدان کارزار میں کود پڑے اور ملک کوانگریزوں کی غلامی سے آزادکراکے ہی دم لیا
اس مدرسہ کا مقصد جہاں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا تھا وہیں ملک کا ایک اچھا اور معزز شہری اور تہذیب کا محافظ بنانا تھا جو آج پوری دنیا میں دیکھا جارہا ہے
اس مدرسہ کی جامعیت کو بیان کرتے ہوے حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب علیہ الرحمۃ سابق مہتمم نے فرمایا تھا کہ
اس ادارہ کا مسلک جامع علم ومعرفت جامع عقل وعشق جامع عمل واخلاق جامع دیانت وسیاست جامع روایت ودرایت جامع خلوت وجلوت جامع عبادت ومدنیت جامع اسرار وحکمت جامع جذب وسلوک جامع حال وقال جامع ظاہر وباطن ہے
آج بھی پوری دنیا میں جہاں جہاں اس مادر علمی کے فیض ہاتھوں ووابستگان ہیں ان میں یہی جامعیت اور اعتدال نظر آے گا اپنے ملک سے وفاداری اوراس کے تحفظ کی فکر لیکر علم دین وعمل صالح میں مصروف عمل نظر آئیں گے
اللہ پاک تا قیام قیامت اس مرکز علم دیں کی ہر آن حفاظت وصیانت فرماے دشمنان اسلام اوراعداء دین کی بری نظروں اور بڑی سازشوں سے اس کے چپہ چپہ کو محفوظ فرماے
آمین
