سابق وزیر ایٹالہ راجندر کا علامتی پتلہ نذر آتش۔ سیاسی مفادات کے حصول کیلئے پروپگنڈہ کرنے کا الزام

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد۔6؍ جون
(زین نیوز)
تلنگانہ کی مختلف ٹریڈ یونینس کے ورکرس اور قائدین نے آج سابق وزیر ایٹالہ راجندر کی جانب سے رکن تلنگانہ قانون ساز کونسل کلواکنٹلہ کویتا پر کئے گئے جھوٹ پر مبنی اور نامناسب ریمارکس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔

مختلف ٹریڈ یونینس جن میں آر ٹی سی، تلنگانہ مزدور یونین، سنگارینی (ٹی بی جی کے ایس) اور تلنگانہ الکٹریسٹی ورکرس یونین شامل ہے نے آج ان ریمارکس کے خلاف پرزور احتجاج کیا اور سابق وزیر کے ریمارکس کو سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے جھوٹا پروپگنڈہ اور منظم سازش رچنے سے تعبیر کیا۔

آر ٹی سی سمیت دیگر یونینس قائدین اور ورکرس نے رکن کونسل کویتا کی خدمات اور مزدوروں کے فلاح بہبود کیلئے ان کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں آر ٹی سی یونین کے اعزازی صدر بنانے کی وکالت کی۔آر ٹی سی ، تلنگانہ مزدور یونین کے سرکردہ رہنماؤں نے آج حیدرآباد کے سوماجی گوڑہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس میں انھوں نے ایٹالہ راجندر کے ریمارکس کو سفید جھوٹ قراردیا اور اسے سیاسی مفادات حاصل کرنے کیلئے پروپگنڈا پھیلانے کی ایک کوشش قراردیا۔

تلنگانہ مزدور یونین جنرل سکریٹری تھامس ریڈی نے کہاکہ رکن کونسل کویتا کی مزدور طبقہ کیلئے خدمات کے پیش نظر تیمانتا نے کویتا کو یونین کا اعزازی صدر بننے کا پیشکش کیا ہے جس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ کوئی بھی یونین اپنا اعزازی صدر منتخب کرنے کا حق رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کویتا نے عوامی شعبہ کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرتی آئی ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں دہلی کا دورہ کرتے ہوئے مساعی بھی کی ہے۔

تھامس ریڈی نے مزید کہا کہ چیف منسٹر نے نقصانات کے باوجود آر ٹی سی کا تحفظ کیا ہے اور حالیہ بجٹ میں آر ٹی سی کیلئے 3000 کروڑ کی بھاری رقم مختص کی ہے۔ تھامس ریڈی نے ایٹالہ راجندر سے سوال کیا کہ آیا وہ اچانک مودی حکومت کی مخالف مزدور پالیسیوں سے اتفاق کرچکے ہیں۔ کیا وہ مرکز کی عوامی اداروں کو خانگیانے کی کوششوں کی اچانک تائید کرنے لگے ہیں۔

کیا انہیں بی جے پی کی پالیسیوں میں اب کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ وہ بی جے پی میں شمولیت کے بعد بھی سنٹرل ٹرانسپورٹ بل کی مخالفت کرسکتے ہیں اور اسے منسوخ کرواسکتے ہیں؟۔ کیا وہ آر ٹی سی اور دیگر عوامی اداروں کو تحفظ فراہم کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حضورآباد کی عوام بھی ایٹالہ راجندر کی بے ضابطگیوں سے اب واقف ہوچکے ہیں اور ان کی جھوٹ کو سمجھ چکے ہیں اور وہ آئندہ ضمنی انتخابات میں انہیں ضرور سبق سکھائیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں :  تلنگانہ میں 19 ڈایگنوسٹک سنٹرزکی 9؍جون کو افتتاحی تقریب

 

یونین نے کہاکہ تلنگانہ مزدور یونین کا قیام چیف منسٹر کے سی آر اور وزیر فینانس ہریش راؤ کی دین ہے اور اس کے قیام میں ایٹالہ راجندر کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کمزور طبقات کے قائد ہونے اک دعویٰ کرنے والے ایٹالہ راجندر کا کمزور عوام کی زمینوں پر قبضہ کرنا افسوسناک ہے اور قابل مذمت ہے۔ ۔ اس پریس کانفرنس میں کملاکر گوڑ(یونین صدر) ،ایل مالیا (چیف اڈوائزر)، بی یادو(چیف اڈوائزر )، ایچ ایم علی (اسٹیٹ سکریٹری) بھی موجود تھے۔

: سگارینی کالریز ورکرس کا احتجاج

آر ٹی سی، تلنگانہ مزدور یونین کے علاوہ سنگارینی کانکنی کے ملازمین نے بھی ایٹالہ راجندر کے ریمارکس پر اعتراض کیا اور اس کی مذمت کرتے ہوئے جگہ جگہ احتجاج منظم کئے۔

سنگارینی ورکرس کی یونین ٹی بی جی کے ایس قائدین اور ورکرس نے سابق وزیر کا پتلہ نذر آتش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی کے اعزازی صدر کی حیثیت سے کویتا نے ان کے درکار حقوق دلوائے ہیں اور ان کے فلاح و بہبود کیلئے کافی سرگرم رہیں۔

تلنگانہ الکٹریسیٹی ورکرس یونین یونین کا احتجاج

:جنرل سکریٹری تلنگانہ الکٹریسٹی ورکرس یونین نے بھی رکن کونسل کویتا کے خلاف سابق وزیر ایٹالہ راجندر کے ریمارکس کی مذمت کی اور اسے جھوٹا پروپگنڈہ قراردیا۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے برقی ملازمین کے فلاح کیلئے کئی ایک اقدامات کئے ہیں جس میں 2014 اور 2018 یونین کی سفارش پر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ایٹالہ راجندر اپنے اثاثوں کی حفاظت کیلئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں اور جھوٹا پروپگنڈہ پھلانے کیلئے کوشاں ہیں تاکہ بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرسکے۔ اسوسی ایشن کی جانب سے قائم کردہ اس میٹنگ میں دیگر قائدین راجنگم، منندر، رام داس، تروپتی ، لکشما نارائنا اور دیگر نے شرکت کی۔