‘ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کے موقع پر وزیراعلی کے سی آرکا خطاب
حیدرآباد:7؍جون
(زین نیوز)
وزیراعلی تلنگانہ کے چندرشیکھرراؤ نے ‘ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے’ (7 جون) کے موقع پر ریاست کی عوام کو مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے متحدہ ریاست آندھراپردیش کے تحت غذائی قلت اور فاقہ کشی کی صورتحال سے دوچار رہ چکے تلنگانہ خطے کو مختصر وقت میں ملک کے رائس باؤل کی حیثیت سے بدل دینے میں ریاستی حکومت کی جانب سے کی گئی کاوشوں کو یاد دلایا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو تغذیہ بخش غذا بشمول گوشت، انڈے اور مچھلی کی فراہمی کے لئے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اسی طرح ریاستی حکومت بھیڑوں کی افزائش کی اسکیم پر عمل پیرا ہے اور پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کی بھی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جس سے ریاست کی عوام کو محفوظ غذا مل پارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ پر قابو پانے کے لئے سخت ترین اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اسی طرح حکومت نقلی بیجوں، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر قابو پانے کے لئے سخت اقدامات کررہی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ ریاست میں ذیابیطس کے معاملات میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے ‘تلنگانہ سونا’ نامی چاول کی ایک قسم کو متعارف کرایا ہے اور ریاست بھر میں اس کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ مختصر یہ کہ حکومت عوام کی صحت اور تندرستی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ بہت کم وقت میں ریاست تلنگانہ میں دو کروڑ زرخیز اراضیات کو تیار کیا جاسکا ہے جن پر دو قسم کے فصلوں کی کاشت کی جارہی ہے۔ ریاست تلنگانہ نے 3 کروڑ میٹرک ٹن اناج کی پیداوار کے ذریعے پیداوار کے زمرہ میں اول مقام حاصل کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ریاست نے نہ صرف غذائی تحفظ کو حاصل کیا ہے بلکہ ملکی سطح پر غذائی تحفظ کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔
وزیراعلی نے کہا کہ متعدد بڑے آبپاشی پراجکٹس جیسے کالیشورم اور مشن کاکتیہ پروگرام کے تحت تالابوں کی بحالی کے ذریعے ریاست تلنگانہ نے دھان کی پیداوار میں اول مقام حاصل کیا ہے جو کہ ریاست کے لئے ایک فخر کی بات ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران بھی تلنگانہ کے کسانوں کی جانب سے کاشت کی گئی فصلوں نے ملک میں غذائی تحفظ کے حصول میں مدد فراہم کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں متعدد فلاحی اسکیمات کو نافذ کرنے کے لئے حکومت نے 45,000 کروڑ روپئے صرف کئے ہیں۔غذائی تحفظ کی فراہمی و نیز اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ ریاست کا کوئی بھی فرد بھوکا نہ رہنے پائے، حکومت ریاست کے تمام راشن کارڈ گیرندوں کو فی شخص 6 کلو چاول کے حساب سے گھر کے تمام افراد کو چاول فراہم کررہی ہے۔
راشن کارڈ رکھنے والے کل 87,41,000 خاندانوں کے جملہ 2,79,27,000 (ریاست کی جملہ آبادی کا 72 فیصد حصہ) افراد کو ہر سال ایک روپیہ فی کلوگرام کے حساب سے جملہ 20 لاکھ میٹرک ٹن چاول دیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت کے اس اقدام کے چلتے اسے 28.24 روپئے فی کلوگرام کے حساب سے جملہ 2,088 کروڑ روپئے سبسڈی کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح طلبہ کو بھی عمدہ معیار کا چاول دیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاست میں راشن کارڈ پورٹیبلٹی اسکیم کو بھی متعارف گرایا گیا ہے تاکہ راشن کارڈ ہولڈر ریاست میں کہیں بھی اپنا راشن حاصل کرسکے اور اس طرح سے ضرورتمندوں کو مکمل طور پر غذائی تحفظ فراہم کیا جاسکے
