عثمانیہ یونیورسٹی کے "لوگو” میں تبدیلی سے حکومت تلنگانہ کا کوئی تعلق نہیں ۔وزیر داخلہ محمد محمود علی

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد15؍جون
(پریس نوٹ)
ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے "لوگو” کی تبدیلی کے سلسلے آجکل سوشل میڈیا پر تلنگانہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ اس نے یونیورسٹی کے "لوگو” میں تبدیلی کی ہے جس میں سچائی نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے "لوگو” کی تبدیلی کی جانکاری کیلئے پروفیسر ڈاکٹر ایس اے شکور صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی کو ذمہ داری دی گئی تھی جس کے متعلق تمام تفصیلات اکٹھا کریں جس پر پروفیسر ڈاکٹر اے شکور نے ” لوگو” سے متعلق مستند دستاویزات کو داخلہ کے حوالے کیا

ان دستاویزات کی روشنی میں وزیر موصوف نے کہا کہ یونیورسٹی میں جو "لوگو” کی تبدیلی رونما ہوئی ہے اس کا آغاز سال 1951 سے ہی شروع ہوا ہے کیونکہ اسی سال سے یونیورسٹی کا ذریعہ تعلیم اُردو سے انگریزی میں تبدیل ہوگیا

اُس دور میں غیر محسوس طریقے سے "لوگو” سے ایک ایک چیز کو حذف کیا گیا سب سے پہلے "لوگو” سے نظام سابع نواب میر عثمان علی خاں کے تاج کو ہٹایا گیا اس کے بعد حدیث مبارکہ جو "لوگو” کے کے اوپری حصے میں ہے اس کو سنسکرت عبارت سے بدلہ گیا 1956 میں حیدرآباد اسٹیٹ کو آندھرا پردیش میں ضم کرنے کے بعد "لوگو” کے آخری میں اردو کی پہلی تحریر جامعہ عثمانیہ کو تلگو زبان سے بدل دیا گیا

اس طرح 1960 سے پہلے "لوگو” میں پوری طرح سے تبدیلی انھوں نے یہ بھی کہا کہ "لوگو” کی زندگی کے تبدیلی سے متعلق میڈیا پر جو خبریں نشر کی جا رہی ہے اس کا تعلق سالوں پرانا ہے اس میں موجودہ ٹی آر ایس حکومت کا کوئی رول نہیں ہے وزیر داخلہ نے کہا کہ عوام غیر ضروری طور پر تلنگانہ حکومت پر الزامات عائد کر رہے ہیں جو سراسر غلط ہے انہوں نے کہا کہ جن حضرات کے پاس 1960 سال کے بعد سرٹیفیکٹ موجود ہیں اس میں "لوگو” کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جس میں تبدیل شدہ "لوگو” ہے

 

یہ بھی پڑھیں:  تلگو دیشم چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہی 🔸 حامیوں سے رائے مشورہ کے بعد ہی حتمی فیصلہ۔ایل رمنا

 

اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سال 1960 کے بعد سے جو سرکلرز جاری کیے گئے ہیں ان بھی تبدیل شدہ "لوگو” ہی موجود ہے محمد علی نے کہا کہ یہ عمل 1960 سے پہلے ہوا جب ریاست میں کانگریس پارٹی کی حکومت تھی اس میں تلنگانہ حکومت کا کوئی رول نہیں ہے

محمد محمود علی نے عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدیقہ اور بے بنیاد خبروں کو نشر نہ کیا جائے سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کی کہ میڈیا کے تقدس کو برقرار رکھیں گے اوربے بنیاد خبروں کو نشر نہ کیا جائے تاکہ ریاست میں نے امن وامان برقرار رکھیں ۔انھوں نے آخر میں کہا کہ تاریخ کا علم نہ رکھنے والے لوگ غیر ذمہ دارانہ طور پر ٹی آر ایس حکومت پر الزامات عائد کر رہے ہیں جس کی مذمت کی جاتی ہے