عرفان شیخ تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار۔ جس نے وزیر اعظم کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا تھا

تازہ خبر قومی

نئی دہلی:30؍جون
(زین نیوز؍ایجنسیز)
تبدیلی مذہب کے معاملہ میں یوپی اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیےگئے عمر گوتم اور جہانگیر عالم کے بعد اب عرفان شیخ سرخیوں میں ہیں. کون ہیں یہ عرفان شیخ؟یوپی اے ٹی ایس کی جانب سے حراست میں لیے گئے عرفان شیخ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا تھااور وزیر اعظم نے نہ صرف عرفان سے مصافحہ کیا بلکہ پیٹھ تھپتھپائی۔

عرفان شیخ جو اشارے کی زبان کے مترجم ہیں جسے یوپی اے ٹی ایس نے پکڑا تھا۔ عرفان نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو الگ الگ مواقع پر اسٹیج شیئر کیا ہے۔ وہ عرفان جس نے 2017 میں گجرات کے راجکوٹ میں وزیر اعظم کی تقریر اور 2020 میں یوپی میں پریاگراج کا ترجمہ کیا تھا اوربہرے افراد کو اپنی بات پہنچا دی تھی اصل میں مہاراشٹر کے بیڈ سے تعلق رکھنے والے ، عرفان دہلی میں وزارت اطفال بہبود کے تحت انڈین سائن لینگوئج ریسرچ اینڈ ٹریننگ سنٹر میں سائن زبان کے مترجم کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ تبدیلی مذہب کے معاملہ میں یوپی اے ٹی ایس نے عمر گوتم اور جہانگیر عالم کو گرفتار کرنے کےبعد تحقیقات کے دوران تبدیلی مذہب کے معاملہ میں عرفان شیخ ملوث ہونے کا انکشاف ہونے پر اے ٹی ایس نے عرفان اور اس کے دو ساتھیوں ، منن یادو عرف منان اور راہول بھولا کو قومی دارالحکومت دہلی کے علاقہ سے گرفتار کیاہے

اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ عرفان شیخ کو اس کے لئے گرفتار کیا گیاہے کہ وہ اس جرم میں ملوث ہے ۔دوسری طرف اے ٹی ایس ، آئی جی اے ٹی ایس جی کے گوسوامی کا کہنا ہے کہ عرفان اس جرم میں ملوث تھا۔ اسے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔

عرفان نے کس کے ساتھ ، کب اور کہاں اسٹیج شیئر کیا ، یہ ہماری تفتیش کی بات نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے ساتھ اسٹیج کوشیئرکے سوال پرانہوں نے کہا کہ ہمیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے ، صرف وزارت اطفال بہبود ہی اس بارے میں بہتر طور پر بتا سکتی ہےپیر کو گرفتار کیے گئے عرفان شیخ اور اس کے ساتھی منو یادو اور راہول بھولا کے ریمانڈ پر جمعرات کو سماعت ہوگی۔

اے ٹی ایس نے کہناہے کہ تینوں کو سات دن کے ریمانڈ پر بھیجنا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی یوپی اے ٹی ایس کو عمر گوتم اور جہانگیر عالم کا چار دن کا ریمانڈ مل گیا ہے۔ اس دوران اے ٹی ایس کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ آمنے سامنے بھی ہوسکتی ہے ، جس کے بعد کچھ اہم گرفتاریاں ممکن ہیں۔