Mudassir Ahmed

کھانے پر اٹکی ہوئی قوم

تازہ خبر مضامین
کھانے پر اٹکی ہوئی قوم
از قلم : مدثر احمد
شیموگہ ۔کرناٹک
ہمارے معاشرے کا ایک افسوسناک رویہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی ترجیحات کو محدود کر کے صرف کھانے پینے تک کر دیا ہے۔ شادی بیاہ کے موقع پر جہاں دلہا اور دلہن کے لئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا وقت ہونا چاہئے، وہاں مہمان زیادہ تر کھانے کی اقسام، بریانی کے چاولوں کی قسم، اور گوشت یا چکن کی فراہمی کے دنوں پر بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
 یہ صرف شادیوں تک محدود نہیں، بلکہ تعلیمی اداروں میں بچوں کے داخلے کے وقت بھی والدین تعلیم کے معیار یا اساتذہ کی صلاحیتوں کے بجائے کھانے کے مینو پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ دوسری قومیں جہاں اپنے بچوں کے مستقبل اور بہتر تعلیم کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہیں، وہاں ہم اپنی نسلوں کے مستقبل کو چند دیگوں کے دھوئیں میں لپیٹ کر بھول جاتے ہیں۔
یہ رویہ صرف شادیوں یا اسکولوں تک محدود نہیں۔ قومی مسائل پر منعقد ہونے والے جلسوں اور پروگراموں میں بھی کھانے کا سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جب کسی کو کسی کانفرنس یا تحریک میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ کھانے کا انتظام ہے یا نہیں۔ اگر دعوت نامے کے ساتھ دیگوں کی خوشبو نہ ہو، تو بیشتر لوگ شرکت کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔یہ رویہ ہمارے معاشرے میں ایک گہری سماجی بیماری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
 کھانا، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، ہمارے ہاں زندگی کا مقصد بن چکا ہے۔ ہماری گفتگو، ہماری ترجیحات، اور ہماری سوچ کا محور کھانا ہی بن گیا ہے۔ شادیوں میں کھانے کی اقسام، دعوتوں میں مینو کی تفصیلات، اور حتیٰ کہ دینی یا سماجی پروگراموں میں بھی کھانے کے انتظامات ہی اولین ترجیح بن جاتے ہیں۔ یہ رجحان ہمارے معاشرے کی اجتماعی سوچ کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔
جب ہمارے فیصلے کھانے کے ذائقے اور اس کی دستیابی پر منحصر ہونے لگیں، تو یہ ایک خطرناک علامت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست سمت میں نہیں رکھ رہے۔تعلیمی اداروں میں داخلے کے وقت والدین کی اولین ترجیح بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں یا اساتذہ کے معیار کے بجائے کھانے کا مینو ہوتا ہے۔ اسکول کا انتخاب اس بات پر ہوتا ہے کہ کھانے کی سہولت کتنی بہتر ہے، نہ کہ تعلیمی نصاب کتنا مضبوط ہے۔
یہ رویہ ہماری نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ جب والدین بچوں کی تعلیم کے بجائے کھانے کے معاملات کو ترجیح دیتے ہیں، تو یہ واضح اشارہ ہے کہ ہماری اجتماعی سوچ محدود ہو چکی ہے۔ دوسری قومیں اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بہترین تعلیمی مواقع تلاش کرتی ہیں، جبکہ ہم کھانے کے معیار پر بحث کرتے رہتے ہیں۔ملت کے مسائل پر منعقد ہونے والے جلسوں، کانفرنسوں، یا دینی پروگراموں میں بھی یہی صورتحال ہے۔
 کھانے کے انتظامات کی عدم موجودگی اکثر لوگوں کے لیے پروگرام میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بنتی ہے۔ دعوت قبول کرنے سے پہلے کھانے کا مینو جاننا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ ہمارے سماجی اور فکری زوال کی عکاسی کرتا ہے۔ جب ہم کسی پروگرام کی اہمیت اس کے موضوع یا مقصد کے بجائے کھانے کے معیار سے ناپتے ہیں،
تو یہ ہماری ترجیحات کی گمراہی کو ظاہر کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کھانا ہی ہماری زندگی کا مقصد ہے؟ کیا ہم نے اپنی اجتماعی سوچ کو صرف پیٹ بھرنے تک محدود کر دیا ہے؟ اگر یہی حال رہا، تو ہم مستقبل کی دوڑ میں کہیں پیچھے رہ جائیں گے۔
دوسری قومیں علم و ہنر کے میدان میں ترقی کر کے دنیا پر قیادت کریں گی، جبکہ ہم کھانے کے ذائقوں میں الجھ کر اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دیں گے۔ یہ رویہ ہماری قوم کو ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف لے جا رہا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں۔
کھانے کی فکر کو پسِ پشت ڈال کر تعلیم، ترقی، اور ملت کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو وسعت دینی ہوگی اور اپنی توجہ کو کھانے سے ہٹا کر علم، تحقیق، اور تربیت پر مرکوز کرنا ہوگا۔ کھانے کا ذائقہ چند لمحوں کا ہوتا ہے، مگر علم و تربیت کی خوشبو نسلوں تک رہتی ہے۔
 ہمیں اپنے بچوں کے لیے بہترین تعلیمی مواقع تلاش کرنے چاہئیں، سماجی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں، اور اپنی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہئے۔ہمارے معاشرے کو اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم کھانے سے زیادہ علم کی بھوک پیدا کریں۔
ہمیں اپنی نسلوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ زندگی کا مقصد صرف کھانا نہیں، بلکہ علم، ہنر، اور خدمت کے ذریعے اپنی قوم اور معاشرے کی بہتری ہے۔ اگر ہم نے اپنی ترجیحات کو درست نہ کیا، تو ہم نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی ترقی کے مواقع سے محروم کر دیں گے۔