غیر مسلم لڑکے کے ساتھ محبت کی شادی کا عبرت ناک انجام

تازہ خبر تلنگانہ جرائم حادثات
غیر مسلم لڑکے کے ساتھ محبت کی شادی کا عبرت ناک انجام
شادی کے 7 ماہ بعد لڑکی نے خودکشی کرلی ۔تلنگانہ کے جگتیال ضلع میں قوم کو جھنجوڑنے والا واقعہ
جگتیال:۔5؍مارچ
(زین نیوز)
مسلم معاشرے میں آئے دن مسلم لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں سے شادی یاپھر ان کے ساتھ گھروں سے راہ فراری کے افسوسناک واقعات قوم اور اس کے ذمہ داران کے لیے ایک لمحہء فکریہ،۔غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کے عبرتناک انجام جیسے واقعات بھی دیکھنے اور سننےمیں آیا کرتے تھے۔
زمانے کی تبدیلی اور عیش وعشرت کی زندگی گزارنے کی چاہت میں وہ اندھی ہوتی جارہی ہیں ایسا فیصلہ لیتے وقت انہیں ماں باپ ، خاندان کی عزت کی فکر رہتی ہے اورنہ ہی اپنے مذہب کی۔
مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ محبت ‘ شادی  یا سرپرستوں کی جانب سے شادی کی اجازت نہ دینے پر خودکشی یا خود سوزی جیسا انتہائی  قدم تک اٹھانے میں زرا برابر جھجھک تک محسوس نہیں کررہی ہیں۔ایسی خبریں اخباروں اور سوشیل میڈیا کے زینت بن رہی ہیں
 ایسا ہی ایک واقعہ تلنگانہ ریاست کےجگتیال قوم کو جھنجوڑنے والا واقعہ پیش آیا جہاں جگتیال ضلع سے تعلق رکھنے والی ایک 25 سالہ مسلم لڑکی کورٹلہ منڈل کے آئیلا پور  کے غیر مسلم لڑکے سریکانت کے دام الفت میں گرفتار تھی ۔
 بین مذہب کی عاشقی والی شادی اسوقت مہینگی پڑی جب لڑکی کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوگئی جس پرشہر کورٹلہ کے مسلمانوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ متوفی لڑکی کے ماموں محمد بابا، محمد یاسین نےتفصیلات بتاتے ہوے کہاکہ
جگتیال شہر مستقر سے تعلق رکھنے والی فردوس تبسم بنت مرحوم محمد جاوید(23)سالہ جو اپنے والدہ اسماء سلطانہ، اور بہن کے ہمراہ کرایہ کے مکان میں رہتی تھی اور گذر بسر کیلئے شہر جگتیال کے ریلائنس مارٹ میں کام کرتی تھی کہ وہاں پر
سیکورٹی گارڈ کا کام کرنے والا کے۔سریکانت(24)سالہ سے اسکی ملاقات ہوئی سریکانت نے لڑکی کو بہلا پھسلا کر عاشقی کے بہانے لڑکی فردوس تبسم کو سات ماہ قبل گھر سے بھگا لیجاکرشادی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ہندو مذہب اختیار کروایا اور نام ممتا رکھا۔
جس پر لڑکی کے افراد خاندان نے جگتیال رورل پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی مگر بالغ ہونے اور مرضی کی شادی کرنے پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
مابعد دونوں کورٹلہ منڈل کے موضع آئیلا پور میں سریکانت کے مکان پر مقیم تھے کہ ہفتے کی شام اچانک پولیس کی جانب سے فردوس تبسم کے افراد خاندان کو اطلاع دی گئی کہ انکی لڑکی نے پھانسی لیکرخودکشی کرلی ہے۔
جس پر والدہ اسماء سلطانہ نے اپنے ہمراہ محمد بابا، محمد یاسین نامی بھائیوں کو لیکر کورٹلہ پولیس اسٹیشن پہنچکر ایک شکایت درج کروائی لیکن کورٹلہ پولیس کی جانب سے مبینہ جانبدارانہ طور پر شکایت تحریری طور لی گئی کہ لڑکی نے خودکشی کی ہے۔
اس بات کی اطلاع ملتے ہی محمد انور صدیقی خادم ملت و معتمد مجلس کورٹلہ، محمد وسیع الرحمن ( عرف وسیم بھائی) نائب صدر اقلیتی کانگریس ضلع جگتیال، سید فہیم صدر ٹاؤن میناریٹی بی۔آر۔یس پارٹی کورٹلہ،محمد صابر علی صدر مجلس
کورٹلہ، محمد عبدالنعیم نمائندہ کونسلر وارڈ نمبر 19 و کانگریس قائد، ملاں مسعود سابقہ نمایندہ کونسلر، نے پولیس سب انسپکٹر چرا ستیش کے رویہ کی سخت مخالفت کی اور اس واقعہ کو سریکانت کی جانب سے قتل قرار دیتے ہوئے لڑکی کے والدہ کا بیان درج کروایا
جس میں لڑکی کے والدہ نے بتایا کہ فردوس تبسم نے چند روز قبل ہی فون کے ذریعے ان سے بات کرتے انہیں بتایا کہ یہ شادی کرکے اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے
کیونکہ سریکانت اور اس کی ماں کی جانب سے جہیز اور رقم کا مطالبہ کرتے ہوئے روزآنہ اس پر ظلم وزیادتی کررہے ہیں اور اسے ماراپیٹا جارہاہے۔
لڑکی کے والدہ، اور ماموں نے سریکانت پر الزام عائد کیا کہ اسی نے انکی لڑکی کا قتل کیا اسے سخت سے سخت سزا دی جائے احتجاج پر پولیس کورٹلہ نے دوبارہ درخواست اذ سرنو تحریر کرتے ہوئے قتل کے طور پر شکایت درج کی اور
نعش کو مابعد پوسٹ مارٹم فوراً آئیلا پور موضع منتقل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا تاکہ شہریان میں اس کی اطلاع نہ ہو اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے جس پر شہر کے غیور مذکورہ مسلمانوں نے پولیس سب انسپکٹر چرا ستیش کے ساتھ بحث و مباحثہ کے بعد تیقن دیا کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا اور وہ قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں گے۔
اور نعش کی اسلامی طریقہ کار پر تدفین عمل میں لائی جائے گی اور مسلم لڑکی کی غیر مسلم رواج پر آخری رسومات ہونے نہیں دیں گے۔ جس پر پولیس کے بھاری بندوبست کے درمیان گورنمنٹ ایریا ہاسپٹل کورٹلہ میں نعش کا پوسٹ مارٹم عمل میں آیا اور شہر کورٹلہ کی مسلم دردمند بہنوں نے سرکاری دواخانہ کے احاطے میں ہی نعش کو غسل دیا۔
میت کی قبرستان درگاہ درویش قادری صوفی چمن سنگم روڑ منتقلی کے دوران نوجوانوں کی جانب سے جذباتی طور پر احتجاجی نعرے بازی کی گی اور خاطی سریکانت کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔نماز جنازہ احاطہ قبرستان درگاہ درویش قادری صوفی چمن سنگم روڑ میں حضرت شیخ حبیب قادری صدر اہلسنت الجماعت نے پڑھائی
جس شہر کورٹلہ کے مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور تدفین عمل میں آئی۔اس موقع پر سرکل انسپکٹر پولیس لکشمی نارائنا، سب انسپکٹرس ستیش، شیام راج، کے علاوہ دیگر پولیس اسٹیشنوں سے وابستہ پولیس کی کثیر تعداد موجود تھی ۔