ہندوستانی طالب علم نے امریکن ایئرلائنز کی پرواز میں مسافر پر پیشاب کر دیا

تازہ خبر عالمی
ہندوستانی شخص نے امریکن ایئرلائنز کی پرواز میں مسافر پر پیشاب کر دیا
نئی دہلی:۔5؍مارچ
(زین نیوز ڈیسک)
نشے میں دھت ہندوستانی طالب علم نے امریکن ایئرلائنز کی پرواز میں ایک امریکی مسافر پر پیشاب کر دیا۔ واقعہ 3 مارچ کا بتایا جا رہا ہے۔ معاملہ اب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ یہ فلائٹ نیویارک سے دہلی آرہی تھی۔
ایئر لائن کا کہنا ہے کہ ملزم نے واقعے کے بعد معافی مانگ لی تھی۔ لیکن ایئر لائنز نے ملزمان پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
دہلی ہوائی اڈے کے ایک عہدیدارنے بتایاکہ امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالب علم فلائٹ 292 میں شراب کے نشے میں سفر کر رہا تھا۔ طالبہ کا نام آریہ ووہرا ہے۔ اس نے سوتے ہوئے پیشاب کیا جو لیک ہو کر پاس بیٹھے مسافر پر گرا۔ اس بارے میں عملے سے شکایت کی گئی۔
ملزم نے مسافر سے معافی بھی مانگ لی۔افسرنے کہاکہ فلائٹ نے نیویارک سے 3 مارچ کو رات 9 بجکر 16 منٹ پر ٹیک آف کیا تھا۔
یہ واقعہ 14 گھنٹے 26 منٹ کے سفر کے دوران پیش آیا۔ ملزم نے متاثرہ مسافر سے معافی مانگ لی۔ اس لیے وہ پولیس کو اس معاملے کی اطلاع نہیں دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب عملے کو معلوم ہوا تو انہوں نے پائلٹ کو بتایا۔
جب طیارہ 4 مارچ کو صبح 10:12 بجے دہلی ہوائی اڈے پر اترا تو ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) کو اس معاملے کی اطلاع دی گئی۔ سی آئی ایس ایف کے عہدیداروں نے ملزم کو دہلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر طیارے سے اترتے ہی پکڑ لیا۔ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔
ملزم طالب علم عملے کی بات نہیں سن رہا تھاامریکن ایئرلائنز نے کہا- طالب علم بہت نشے میں تھا۔ وہ عملے کے ارکان کی بات نہیں سن رہا تھا۔ جب اسے اپنی نشست پر بیٹھنے کو کہا گیا تو اس نے بحث شروع کردی۔ وہ باقی مسافروں کو پریشان کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ سو گیا۔
پہلا کیس 26 نومبر کو سامنے آیا تھا۔فلائٹ میں مسافر کے پیشاب کرنے کا یہ تیسرا کیس ہے۔ سب سے پہلے ایسا معاملہ 26 نومبر 2022 کو سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد شیکھر مشرا نامی ملزم نے نیویارک سے دہلی آنے والی فلائٹ میں ایک بزرگ خاتون پر پیشاب کر دیا۔
6 دسمبر کو پیرس سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں ایک شرابی مسافر نے خاتون مسافر کے کمبل پر پیشاب کر دیا۔ خاتون نے پولیس میں مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اس لیے سی آئی ایس ایف اور کسٹم نے ان کی رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے بعد ملزم کو جانے دیا تھا۔