ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، لیکن مودی جمہوریت دور۔امریکی تاجر جارج سوروس

تازہ خبر عالمی
 ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، لیکن مودی جمہوری نہیں۔امریکی تاجر جارج سوروس
بیان غیر ملکی سازش۔ جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش۔ اسمرتی ایرانی 
نئی دہلی:۔18؍فروری
(زیڈ این ایم ایس)
مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے امریکہ کے ارب پتی تاجر جارج سوروس کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق بیان کو غیر ملکی سازش قرار دیا ہے۔
جارج سوروس نے جمعرات کی رات میونخ سیکوریٹی کونسل میں کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے، لیکن وزیر اعظم مودی جمہوری نہیں ہیں۔ ان کے تیزی سے بڑے لیڈر بننے کی بڑی وجہ مسلمانوں کے خلاف تشدد ہے۔
اس بیان پر اسمرتی نے کہا کہ غیر ملکی سرزمین سے ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہ ہندوستان کی جمہوریت میں مداخلت کی کوشش ہے۔ دوسری جانب کانگریس نے بھی جارج سوروس کے بیان کی مذمت کی ہے۔
اسمرتی نے کہاکہ جارج کا مودی پر حملہ کرنے کا ایجنڈاہے‘اسمرتی ایرانی نے الزام لگایا کہ جارج سوروس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں ایسا نظام بنائیں گے، جو ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا نہ کہ ہندوستان کے مفادات کا۔
انہوں نے کہا کہ ایک غیر ملکی طاقت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہندوستان کے جمہوری ڈھانچے پر حملہ کریں گے اور حملے کے مرکز میں پی ایم مودی کو رکھیں گے۔ ہر ہندوستانی کو اس کا مناسب جواب دینا چاہیے۔
امریکی ارب پتی نے کہا تھاکہ مودی کمزور ہوں گے۔میونخ سیکوریٹی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی ارب پتی جارج سوروس نے کہا کہ ہندوستان کواڈ کا رکن ہے، جس میں آسٹریلیا، امریکہ اور جاپان بھی اس کے ساتھ ہیں۔ اس کے باوجود  ہندوستان روس سے بھاری رعایت پر تیل خرید کر منافع کما رہا ہے۔
سوروس نے کہاکہ اڈانی کے حصص اسٹاک مارکیٹ میں کارڈ کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ اس پر مودی کو جواب دینا ہوگا جس سے حکومت پر ان کی گرفت کمزور ہوگی۔ میں اناڑی ہو سکتا ہوں، لیکن میں ہندوستان میں جمہوریت کی واپسی کا منتظر ہوں۔
سوروس نے ہندوستان میں شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے اور کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد بھی پی ایم مودی کو نشانہ بنایا تھا۔ سوروس نے دونوں موقعوں پر کہا تھا کہ ہندوستان ہندو قوم بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ دونوں موقعوں پر ان کے بیانات کافی مضبوط تھے اور وہ وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ کرتے نظر آئے۔
جارج سوروس وزیراعظم پر تنقید کرنے والا کون ہے؟92 سالہ جارج سوروس کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ سوروس ایک یہودی ہے جس کی وجہ سے اسے دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنا ملک ہنگری چھوڑنا پڑا۔ 1947 میں وہ لندن پہنچ گئے۔ انہوں نے لندن سکول آف اکنامکس میں فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔
فوربز کی رپورٹ کے مطابق سال 16 ستمبر 1992 کو برطانوی کرنسی پاؤنڈ کی قدر میں زبردست کمی واقع ہوئی۔ جس کے پیچھے جارج سوروس کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے اسے برطانوی پاؤنڈ کو توڑنے والا آدمی بھی کہا جاتا ہے۔