آندھرا پردیش میں 48 گھنٹوں میں 10 طالب علموں مبینہ طور پر خودکشی کر لی
انٹر میڈیٹ کے نتائج کے چند گھنٹوں بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں افسوسناک واقعات
انٹر میڈیٹ کے نتائج کے چند گھنٹوں بعد ریاست کے مختلف علاقوں میں افسوسناک واقعات
حیدرآباد:۔29؍اپریل
(زین نیوز)
آندھرا پردیش میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں 10 طلباء نے خودکشی کی ہے۔ دو دیگر طالب علموں نے بھی خودکشی کی کوشش کی تاہم وہ بچ گئے۔ریاست کے مختلف علاقوں سے چونکا دینے والے افسوسناک واقعات کی اطلاع ہے
آندھرا پردیش بورڈ آف انٹرمیڈیٹ نے بدھ کو گیارہویں اور بارہویں کے نتائج جاری کیے تھے۔ امتحان میں کم نمبر آنے اور پیپر میں ناکامی کی وجہ سے ان طلباء نے خودکشی کی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ نے طلباء سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسے انتہائی اقدام نہ کریں۔
آندھرا پردیش بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے مطابق اس بار 10 لاکھ طلبہ امتحان میں شریک ہوئے۔ گیارہویں میں 61% اور 72% طلبہ 12ویں میں پاس ہوئے۔۔ بدھ کو پہلے اور دوسرے سال کے نتائج کا اعلان کیا گیا
آئی اے این ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق، طلباء نے امتحانات میں ناکام ہونے کے بعد الگ الگ واقعات میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا
پہلا معاملہ: اطلاعات کے مطابق بی ترون (17) نے سریکاکولم ضلع میں ٹرین کے سامنے کود کر خودکشی کرلی۔ ترون ڈنڈو گوپالپورم گاؤں کا رہنے والا تھا۔ انٹرمیڈیٹ فرسٹ ایئر کے طالب علم کو بیشتر پرچوں میں فیل ہونے کے بعد مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسرامعاملہ :ملکاپورم تھانہ علاقہ کے تحت ترنادپورم میں ایک 16 سالہ لڑکی نے اپنے گھر میں خودکشی کرلی۔ وہ وشاکھاپٹنم ضلع کی رہنے والی ہے۔
تیسرامعاملہ: اکھلاشری انٹرمیڈیٹ کے پہلے سال میں تھیں۔ وہ کچھ مضامین میں فیل ہونے کے بعد پریشان تھی۔
چوتھامعاملہ: وشاکھاپٹنم کے کنچراپلم علاقے میں ایک 18 سالہ شخص نے اپنے گھر میں پھانسی لگا لی۔ وہ دوسرے سال کا طالب علم تھا اور ایک مضمون میں فیل ہو گیا تھا۔
پانچواں معاملہ: چتور ضلع میں ایک 17 سالہ طالبہ نے جھیل میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ امتحان میں فیل ہونے کے بعد وہ پریشان تھی۔
چھٹا معاملہ: چتور ضلع کے ایک 17 سالہ طالب علم نے زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ امتحان میں فیل ہونے کے بعد وہ پریشان بھی تھا۔
ساتواں معاملہ: ایک 17 سالہ طالب علم نے انکاپلے میں اپنے گھر میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ کم نمبروں کی وجہ سے وہ ذہنی دباؤ میں تھا۔
پولیس اور ماہرین نفسیات نے طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی قدم اٹھانے سے باز رہیں، کیونکہ ان کی پوری زندگی ان کے آگے ہے اور وہ ناکامی کو کامیابی میں بدل سکتے ہیں۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے طلباء کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اپنا درد بیان کیا ہےچیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ‘حال ہی میں کہا تھا کہ میں نے ایک دلت طالب علم کی خودکشی کی خبر پڑھی تھی۔
اس واقعہ نے مجھے گزشتہ سال اڈیشہ کی نیشنل لاء یونیورسٹی میں ایک قبائلی طالب علم کی خودکشی کی خبر یاد دلائی۔ان طلباء کے اہل خانہ کے بارے میں سوچ کر میرا دل دکھتا ہے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ ہمارے ادارے کہاں ایسی غلطیاں کر رہے ہیں کہ طلباء اپنی قیمتی جانیں گنوا رہے ہیں۔
