شیو سینا کی جائیداد شنڈے گروپ کو منتقل نہیں ہوگی ۔ درخواست مسترد
نئی دہلی:۔29؍اپریل
(زین نیوز ڈیسک)
مہاراشٹرا کی شیوسینا ایکناتھ شندے کے دھڑے کو سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹھاکرے دھڑے سے شیوسینا اثاثوں کو شنڈے گروپ کو منتقلی کی عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔ ایکناتھ شنڈے اور ادھو ٹھاکرے کےا(گروپ) دھڑے کے درمیان طویل عرصے سے تنازعہ چل رہا تھا۔۔
فی الحال شیو سینا کی جائیداد ادھو ٹھاکرے دھڑے کے پاس ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس پی ایم نرسمہا کی بنچ نے عرضی گزار سے پوچھا کہ آپ کون ہیں، اس معاملے میں آپ کا کیا حق ہے۔ اس کے بعد درخواست خارج کر دی گئی۔
اس معاملے پر شنڈےگروپ کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی، لیکن شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ تمام پارٹی اثاثوں کو وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے کی قیادت والے دھڑے کو منتقل کرنے کی ہدایت دی جائے۔
آشیش گری کی عرضی پر سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ کیسی عرضی ہے اور آپ کون ہیں؟ آپ کی درخواست قبول نہیں کی جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے 16 مارچ کو مہاراشٹر کے سیاسی بحران سے متعلق ادھو ٹھاکرے اور چیف منسٹر ایکناتھ شنڈے کےگروپوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف دائر مختلف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے دھنوش بان شنڈےگروپ کو پارٹی کا نشان دیا ہے اور یہ معاملہ ابھی عدالت کے زیر غور ہے۔
درخواست گزار نے کہا تھا کہ مہاراشٹر میں تمل ناڈو جیسی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
درخواست گزار آشیش گری نے عرضی میں کہا تھا کہ مہاراشٹر کا ووٹر ہونے کی وجہ سے میں سپریم کورٹ میں یہ درخواست داخل کر رہا ہوں۔ شیو سینا کی جائیداد سے متعلق تمام سوالوں کے جواب وقت پر ملنے چاہئیں۔ پارٹی کے حوالے سے پوری صورتحال کو واضح کیا جانا چاہئے، تاکہ مہاراشٹر میں تمل ناڈو جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔
دراصل تمل ناڈو میں جے للتا کی موت کے بعد ان کی پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے پر قبضے کو لے کر دو دھڑوں میں بٹ گئی تھی۔ ایک دھڑا پارٹی کے تجربہ کار ای پلانی سوامی یعنی ای پی ایس کے ساتھ تھا اور دوسرا او پنیرسیلوم یعنی او پی ایس کے ساتھ۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا۔ عدالت کے حکم کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے کی کمان مکمل طور پر پلانی سوامی کے حوالے کر دی گئی۔
شیوسینا کے پاس اس وقت 191.82 کروڑ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ہیں، دادر میں شیوسینا کی عمارت پر بھی ادھو دھڑے کا قبضہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی وصیت میں بالاصاحب نے ممبئی میں ماتوشری کی تین منزلہ عمارت کی پہلی منزل کو جے دیو کے نام اور دوسری اور تیسری منزل کا نام ادھو کے نام پر رکھا تھا، جب کہ گراؤنڈ فلور شیوسینا کے لیے رکھا گیا تھا۔ . ایسے میں مانا جا رہا تھا کہ ماتوشری عمارت کے گراؤنڈ فلور کی ملکیت ٹھاکرے کے ہاتھ سے جا سکتی ہے