امیش پال اغوا کیس: عتیق احمد سمیت 3 کو عمر قید‘ 7 بری
نئی دہلی:۔28؍مارچ
(زین نیوز ڈیسک)

سے سیاستداں بنے عتیق احمد اور دیگر کو 2006 میں امیش پال کے اغوا کیس میں عتیق احمد کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور عتیق احمد سمیت تینوں مجرموں کو یم پی ایم ایل اے عدالت نے عمر قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ بھائی اشرف سمیت 7 ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ اس معاملے میں گیارہ افراد کو ملزم بنایا گیا تھا جن میں سے ایک کی موت ہو چکی ہے۔ امیش پال بھی گزشتہ ماہ ایک حملے میں مارا گیا تھا جو مبینہ طور پر ان دونوں کی طرف سے منظم کیا گیا تھا
پولیس ریکارڈ میں عتیق گینگ کے خلاف 101 مقدمات درج ہیں۔ پہلی بار کسی گینگسٹر کو کسی کیس میں مجرم قرار دے کر سزا دی گئی ہے۔عتیق کے علاوہ جن تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے ان میں خان صولت اور دنیش پاسی شامل ہیں۔ بری ہونے والوں کے نام اشرف عرف خالد عظیم، فرحان، جاوید عرف باجو، عابد، اسرار، عاشق عرف مالی، اعجاز اختر ہیں۔
جب عتیق احمد کو عدالت لے جایا گیا تو وکلا نے احاطے میں پھانسی دو اور پھانسی دو کے نعرے لگائے۔ اس سے قبل عتیق کو نینی سینٹرل جیل سے بند وین میں عدالت لایا گیا۔ اس میں سی سی ٹی وی کیمرے اور پردے لگے ہوئے تھے۔ عدالت تک کا 10 کلومیٹر کا فاصلہ 28 منٹ میں طے کیا گیا۔
پیر کی شام عتیق احمد کو احمد آباد کی سابرمتی جیل سے اور اس کے بھائی اشرف کو بریلی جیل سے پریاگ راج لایا گیا تھا۔ دونوں کو نینی سینٹرل جیل میں ہائی سیکیورٹی بیرک میں رکھا گیا تھا۔فیصلے سے قبل عتیق نے سپریم کورٹ سے سیکوریٹی کا مطالبہ کیا تھا،
ادھر امیش پال قتل کیس میں سپریم کورٹ نے عتیق احمد کی سیکورہٹی کی اپیل مسترد کردی ہے۔ عتیق نے درخواست میں کہا تھا کہ جب تک وہ اتر پردیش پولیس کی تحویل میں ہیں، انہیں سیکوریٹی دی جانی چاہئے۔۔
گینگسٹر نے یوپی پولیس سے تحفظ بھی طلب کیا تھا اور کہا تھا کہ اسےفرضی انکاؤنٹر” میں مار دیا جائے گا۔ عتیق نے کہا تھا کہ وہ یوپی جیل منتقل نہیں ہونا چاہتا۔ اس پر سپریم کورٹ نے عتیق کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنی شکایت ہائی کورٹ لے جائیں۔