اوڈیشہ ٹرین حادثےکو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی دائیں بازو ہندتوا اور گودی میڈیا کی کوشش

تازہ خبر قومی

اوڈیشہ ٹرین حادثےکو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی دائیں بازو ہندتوا اور گودی میڈیا کی کوشش
"میڈیا میں زیر گشت خبریں غلط اور گمراہ کن‘فرقہ وارانہ زاویہ مسترد‘
ساؤتھ ایسٹرن ریلوے سی پی آر او آدتیہ کمار چودھری

نئی دہلی :۔20؍جون
(زین نیوز ڈیسک)

بالاسور ٹرپل ٹرین حادثہ کی جانچ کر رہی سی بی آئی نے حال ہی میں ایک جونیئر انجینئر سے پوچھ گچھ کی تھی۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جونیئر انجینئر پوچھ گچھ کے بعد فرار ہے۔

واضح رہے کہ آ ج صبح سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ سورو ریلوے سگنل جونیئر انجینئر (جے ای) اور اس کے خاندان کا 2 جون سے پتہ نہیں چل سکا،

دائیں بازو ہندتوا اور گودی میڈیا نے بالاسور ٹرپل ٹرین حادثہ کو ایک مسلمان جونیر انجینئر عامر خان سے جوڑ کر وائر ل کیا ہے جو ٹویٹر پر ٹرینڈ پر ہے۔گوڈی میڈیا اور رائٹ ونگ دونوں اکاؤنٹس سے الزام لگاکر ‘مسلمان انجینئر کو مجر م بنانے میں لگے ہیں

فرضی تصاویر شیئر کی جارہی ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عامر خان کے گھر کو سیل کر دیا، جو سورو سیکشن کے تحت سگنل جے ای کے طور پر کام کر رہا ہے۔ آج، چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم صبح 10 بجے خان کے ساتھ گھر پہنچی اور تقریباً چھ گھنٹوںتک تلاشی لی۔

ساؤتھ ایسٹرن ریلوے کے سی پی آر او آدتیہ کمار چودھری نے ان خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حقیقت میں غلط اور گمراہ کن ہیں چودھری نے منگل کو کہا – ہمارا پورا عملہ موجود ہے اور تحقیقات میں تعاون کر رہا ہے۔ ٹرین سانحہ کے بعد سے ہمارا کوئی عہدیدار ڈیوٹی سے غیر حاضر نہیں رہا۔ پورا عملہ انکوائری کا حصہ ہے اور ضرورت پڑنے پر سی بی آئی کے سامنے پیش ہوتا ہے

 

انہوں نے واضح طور پر کہا، "عملے میں سے کوئی بھی لاپتہ یا مفرور نہیں ہے۔”میڈیا میں گردش کرنے والی کسی بھی غلط معلومات کو دور کرنا اور اس کی اصلاح کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ عوام میں خوف و ہراس اور الجھن پھیلانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

درست رپورٹنگ لوگوں کے اعتماد کو برقرار رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کہ وہ ایسے نازک حالات میں درست معلومات حاصل کریں۔

ریلوے ذرائع نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ سی بی آئی نے ثبوت حاصل کرنے کے لیے بہناگا بازار ریلوے اسٹیشن کے ریلے روم اور دیگر آلات کو سیل کر دیا ہے۔ ریلوے کے عملے سے مرکزی تفتیشی ایجنسی نے پوچھ گچھ کی ہے، اور ان کے موبائل، لاگ بک اور ڈیجیٹل لاگس کو فرانزک جانچ کے لیے ضبط کر لیا گیا ہے۔

2 جون کو اوڈیشہ کے بالاسور میں ٹرین حادثہ پیش آیا۔ اس میں چنئی جانے والی کورومنڈیل ایکسپریس، ہاوڑہ جانے والی شالیمار ایکسپریس اور ایک مال ٹرین آپس میں ٹکرا گئیں۔ اس حادثے میں 292 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سی بی آئی کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

حادثے کی ایف آئی آر 3 جون کو درج کی گئی تھی3 جون کو اوڈیشہ ٹرپل ٹرین حادثے کے حوالے سے بالاسور میں واقع جی آر پی ایس میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ بعد ازاں وزیر ریلوے نے واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ مرکزی حکومت کی رضامندی کے بعد سی بی آئی نے کیس کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ واقعہ کی آزادانہ تحقیقات جاری ہے۔ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو منگل کی شام بہناگا بازار پہنچے۔ وشنو نے بتایاکہ میں یہاں کے لوگوں سے مل رہا ہوں۔ میں حادثے کے دن ان کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔ یہاں گاؤں اور ہسپتال کے ترقیاتی کاموں کے لیے 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بالاسور ٹرین حادثہ کی تحقیقات آزادانہ طور پر جاری ہے