بزمِ ادب ، شعبۂ اردو ، مانو کی ادبی نشست کا انعقاد

تازہ خبر تلنگانہ
حیدرآباد:۔ 28 جنوری
(پریس نوٹ) 
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، شعبۂ اردو کی ادبی تنظیم "بزمِ ادب” کی جانب سے ایک ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا۔اس پروگرام کی صدارت صدر شعبہ پروفیسر شمس الہدیٰ دریابادی نے کی۔
پروگرام کی ابتدا ایم اے کے متعلم محمد عبد الکریم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوئی۔ ریسرچ اسکالر محمد عبد القیوم نے حاضرین کاخیر مقدم کیا۔ بعد ازاں بزمِ ادب کے نگراں ڈاکٹر فیروز عالم نے بزمِ ادب کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی دائمی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا۔
 اس موقعے پر ریحانہ سلطانہ نے ایک مضمون بہ عنوان "کیا یہی آزادی ہے”، محمد عمر رضا نے غزل، تنویر کوثر نے تحقیقی مضمون ”1980ءکے بعد کی غزلوں میں تصوف کے عناصر“، محمد ارشد ہمراز نے غزل اور ایک نظم بہ عنوان "ادب کی ایک طالبہ” پیش کیا۔
اعجاز احمد نے "کاش کہ وہ حسیں لمحات لوٹ آتے” کے نام سے ایک دلچسپ انشائیہ پڑھا۔ محمد محتشم نے اپنی غزل کے چند اشعار اور ایک دلچسپ رپورتاڑ بہ عنوان "عوام کا انتخاب سر آنکھوں پہ” پیش کیا۔ نور اللہ نیاز مدنی نے ایک افسانہ "اور منہ کھلا رہ گیا” کے نام سے پیش کیا۔
 محمد اکبر خان نے "رزرویشن” کے زیر عنوان ایک پراثر نظم پیش کی۔ آخر میں افسانہ نگار جناب احمد صغیر کا افسانہ "شکستہ یادوں کے درمیان” پیش کیا گیا جس کی شاندار قرات محمد ارشد نے کی اور اس کا تجزیہ محمد عبد القیوم نے پیش کیا۔
اس موقعے پر پروفیسر شمس الہدیٰ دریا بادی، پروفیسر مسرت جہاں، ڈاکٹر فیروز عالم، ڈاکٹر ابو شہیم خاں، ڈاکٹر بدر سلطانہ اور ڈاکٹر جابر حمزہ نے طلبہ کی تخلیقات اور تحریروں کی ستائش کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی اور ضرورتاً ان کی اصلاح بھی کی۔ امتیاز احمد نے رپورٹ تیار کی۔ ریسرچ اسکالر محمد محتشم نے نظامت کی۔ محمد اعجاز نے شکریہ ادا کیا ۔