بلقیس بانو کیس کے 11 مجرموں کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا
راحت کی درخواست مسترد ۔21 جنوری تک خودسپردگی کا حکم
نئی دہلی :۔19؍جنوری
(زین نیوز ڈیسک)
بلقیس بانو کیس میں ملزمان کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ مجرموں نے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں خودسپردگی کے لیے چار ہفتہ کی مہلت مانگی تھی جسے عدالت نے سماعت کرتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام ملزمان کو 21 جنوری تک خود سپردگی اختیارکرنے کا کہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کی توسیع کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
حکم جاری کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ چاروں مجرموں کو 21 جنوری تک کسی بھی حالت میں خودسپردگی کرنی چاہیے۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا کی قیادت والی بنچ نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ درخواستوں میں میرٹ کی کمی ہے اور لوگوں کو اتوار تک جیل حکام کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔
عدالت عظمیٰ نے توسیع کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجرموں کی جانب سےخودسپردگی کو ملتوی کرنے کی جو وجوہات پیش کی گئی ہیں ان میں میرٹ کا فقدان ہے
واضح رہے کہ راحت کی درخواست کرنے والے پانچ مجرم گووند نائی، پردیپ موردھیا، بپن چندر جوشی، رمیش چندنا، اور متیش بھٹ تھے۔ اس کیس کے ملزمان نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دی تھی۔
کئی عرضیاں دائر کی گئیں جو درج ذیل ہیں۔مجرم گووند بھائی باربر نے عدالت میں بتایا تھا کہ اس کے والد کی عمر 88 سال اور والدہ کی عمر 75 سال ہے۔ وہ واحد شخص ہے جو ان کا خیال رکھتا ہے اس لیے اسے وقت دینا چاہیے۔
اسی وقت رمیش روپا بھائی چندنا نے کہا تھا کہ انہیں اپنے بیٹے کی شادی طے کرنی ہے، اس لیے انہیں خودسپردگی کے لیے وقت درکار ہے۔یک اور مجرم متیش چمن لال بھٹ نے کہا تھا کہ اس کی سردیوں کی فصل کٹائی کے لیے تیار ہے اور وہ خودسپردگی سے پہلے کام مکمل کرنا چاہتا ہے۔
ساتھ ہی پردیپ رمن لال مودھیا نے کہا تھا کہ ان کا ابھی پھیپھڑوں کا آپریشن ہوا ہے جس کی وجہ سے انہیں مکمل صحت یاب ہونے کے لیے آرام کی ضرورت ہے۔ایسے میں دیگر ملزمان نے بھی اپنی اپنی وجوہات بتائی تھیں، عدالت نے انہیں بے بنیاد قرار دیتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔
سپریم کورٹ نے 8 جنوری کو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس گینگ ریپ کے قصورواروں کو قبل از وقت رہائی دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا۔ عدالت نے تمام مجرموں کو دو ہفتوں کے اندر یعنی 21 جنوری تک خود سپردگی کرنے کو کہا تھا۔
اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ گجرات حکومت مجرموں کو کیسے معاف کر سکتی ہے؟ اگر سماعت مہاراشٹر میں ہوئی تو رہائی کا فیصلہ بھی وہاں کی حکومت کرے گی۔
