بی جے پی حکومت کسان مخالف  ۔ گنے کے بقایا ادائیگی پر جھوٹ بول رہی ہے

تازہ خبر قومی
جینت چودھری کا اظہار خیال 
دیوبند:۔ 27؍ نومبر
(رضوان سلمانی) 
کھتولی اسمبلی سیٹ پر جیسے ہی ووٹ کے دن نزدیک آرہے ہیں بی جے پی اور راشٹریہ لوک دل، سماج وادی پارٹی وآزاد سماج پارٹی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ، گزشتہ روز کھتولی میں واقع منڈی میں راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی وآزاد سماج پارٹی نے امیدوار کے حق میں ایک انتخابی جلسہ کیا ۔
 اس موقع پر راشٹریہ لوک دل کے قومی صدر جینت چودھری نے کہا کہ مظفرنگر سے آنجہانی چودھری اجیت سنگھ ہارکر نہیں گئے تھے بلکہ بھائی چارہ بناکر کامیاب ہوکر ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسان مزدور اوربنکر بھگوان کا روپ ہوتے ہیں ، ہمارا اتحاد اُبھرتے بھارت کی تصویر ہے ۔ کھتولی سے دہلی تک حالات بدلیں گے۔
 انہوں نے کہاکہ بزرگوں نے قربانیاں دے کر اس ملک کو آزاد کرایا ۔ بی جے پی نے لبھانے والے وعدے کرکے ووٹ حاصل کئے لیکن عوام کو کچھ نہیں دیا۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی نے عوام کو خواب دکھایا تھا کہ وہ کروڑوں بے روزگاروں کو روزگار دیں گے لیکن حالات یہ ہیںکہ جن کی ملازمت پہلے لگ چکی تھی انہیں اب روزگار میلوںمیں سرٹیفکٹ دیئے جارہے ہیں ۔
جینت چودھری نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وزیر اعظم نے کبھی چائے بیچی ہوگی۔ راشٹریہ لوک دل کے صدر جینت چودھری نے یوم آئین پر ڈاکٹر ہری اوم پنوار کی کویتا سنائی اور کہا کہ بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر نے آئین سب کے لئے تیار کیا اوراسی سے سبھی کو برابر کے حقوق ملتے ہیں۔
جینت چودھری نے کہا کہ فساد کی بات اٹھانے والوں کی نیت صاف نہیںہے،ایسے لوگ ایک مرتبہ پھر سے عوام کو اصلی مسائل بے روزگاری ، بھکمری، غریبی، کسانوں کے فصلوں کوواجبی قیمت ، بجلی وغیرہ کے مسائل سے توجہ ہٹانا چاہ رہے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کے ساتھ مذاق کررہی ہے ان کو ان کی واجبی قیمت تک نہیں دی جارہی ہے۔
آزاد سماج پارٹی کے قومی صدرچندرشیکھر آزادنے اپنے خطاب میں کہا کہ کھتولی اسمبلی سیٹ پر اتحاد کی کامیابی دہلی کے بارڈر پر شہید ہوئے کسانوںکے لئے خراج عقیدت ہوگی ۔ انہوں نے کہا ک بابابھیم رائو امبیڈکر کی جانب سے بنایا گیا آئین ملک کے آخری شخص کو بھی برابری کا حق دیتا ہے ،کسان نوجوان ، خواتین ،مزدور،ملک کاکوئی بھی شخص ہو آئین میں انہیں برابر کا حق ہے۔
 ا نہوںنے کہاکہ ووٹ کی چوٹ سے ثابت کرکے اپنی طاقت دکھانی ہے ۔ چندرشیکھر آزادنے کہا کہ ملک میں اس وقت حالات بڑے خراب ہیں ،نوجوان بڑے پریشان ہیں ،پہلے بھرتی نہیں آتی اگربھرتی آتی بھی ہے تو پیپر لیک ہوجاتا ہے ،اس کے بعد ریزرویشن  میں گھوٹالے ہوجاتے ہیں ، اگر آپ سوال کروگے تو یہ سرکاری مشینری کا غلط استعمال کرکے پریشان کرتے ہیں اور لوگوں پر جھوٹے مقدمات قائم کرتے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ کسانوں کو معاوضہ کے نام پر دوچار روپے دکھاتے ہیں ۔ انہوں نے دلت سماج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر آپ لوگ اپنے بچوں کا مستقبل صحیح کرنا چاہتے ہیں تو بی جے پی کے غرور کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا کام کرنا ہوگا۔
 انہوں نے کہا کہ انتخاب میں آپ کے بوتھ میری لڑائی کی گواہی دیں گے ۔ چندر شیکھر آزاد نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے افراد سازشیں کریںگے ، غنڈہ گردی کریںگے لیکن ہمیں بھائی چارے کو قائم رکھنا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ 2دسمبر کو ہر ہر گائوں میں آئوںگا اوربی جے پی کو اپنے بوتھ کی طاقت کا احساس کرائوںگا۔ ریاست کے سابق وزیر شاہد منظور نے کہا کہ بی جے پی نے علاقہ میں جو نفرت پیدا کی اسے چودھری اجیت سنگھ نے ختم کرنے کا کام کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی ، کھاد، بچوں کا وظیفہ،پانی وغیرہ پر بات نہیں کرتے ہیں ، بی جے پی کھوکھلے نعروں پر انتخاب لڑرہی ہے اسے دفن کرنے کا کام کریں گے۔
 انہو ںنے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص مسائل پوچھتا ہے تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم علاج کردیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو متحد ہوکر گٹھ بندھن کے امیدوار کو کامیاب کرنے کی اپیل کی ۔ سماج وادی پارٹی لیڈر اور کیرانہ اسمبلی رکن ناہید حسن کی بہن اقراء حسن نے کہا کہ بی جے پی کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ یہاں پر انتخاب ہوں لیکن جینت چودھری کی وجہ سے یہ موقع ملا ہے۔
 انہوں نے اپنے والد منور حسن کا نام لے کر کہا کہ عوام نے ان کے والد کو ووٹ دے کر کامیاب کیا تھا ۔ بی جے پی ایسے حالات پیدا کررہی ہے کہ کوئی آواز نہیں اٹھا تا اور جو آواز اٹھاتا ہے اس پر مقدمات قائم کردیئے جاتے ہیں۔
 اس موقع پر سابق ممبرپارلیمنٹ ہریندر ملک ، سابق ممبر پارلیمنٹ راج پال سینی، اسمبلی رکن اتل پردھان، راج پال بالیان، اسمبلی رکن انل کمار، اسمبلی رکن چندن چوہان، آزاد سماج پارٹی کے ضلع صدر جگدیش پال، شیام لال، اسمبلی رکن پنکج ملک، اسمبلی رکن اجے کمار، اسمبلی رکن اشرف علی، سابق اسمبلی رکن رائو عبدالوارث، وسیم رضا، راکیش شرما وغیرہ موجود رہے۔ جلسہ کی صدارت رام نواس ماسٹر نے کی اور نظامت پرمود تیاگی اور سندیپ ملک نے مشترکہ طورپر انجام دی۔