چندرابابو نائیڈو ملک کے امیر ترین چیف منسٹر
🔸 نائیڈو کے پاس موجودہ 30 چیف منسٹرز کی جملہ دولت کا تقریباً 57 فیصد حصہ
🔹 مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی کے پاس سب سے کم اثاثے
نئی دہلی، 23 اگست
(انٹرنیٹ ڈیسک)
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو ہندوستان کے امیر ترین وزیر اعلیٰ قرار پائے ہیں۔ انتخابی اصلاحات کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) اور نیشنل الیکشن واچ (NEW) کی تازہ رپورٹ کے مطابق نائیڈو کے پاس 931 کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثے ہیں، جو ملک کے 30 موجودہ وزرائے اعلیٰ کے کل اثاثوں کا تقریباً 57 فیصد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نائیڈو کے پاس 810 کروڑ روپے مالیت کے منقولہ اثاثے (نقد رقم، بینک ڈپازٹ، زیورات وغیرہ) اور 121 کروڑ روپے مالیت کے غیر منقولہ اثاثے (زمین و مکانات) ہیں۔ ان پر 10 کروڑ روپے کا قرض بھی ہے۔ اس کے برعکس مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سب سے کم اثاثوں والی وزیر اعلیٰ ہیں۔
ان کے پاس صرف 15.38 لاکھ روپے کے منقولہ اثاثے ہیں جبکہ ان کے نام پر کوئی غیر منقولہ جائیداد موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو 332 کروڑ روپے کے اثاثوں کے ساتھ دوسرے امیر ترین وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان کے پاس 165 کروڑ روپے کے منقولہ اور 167 کروڑ روپے کے غیر منقولہ اثاثے ہیں۔
تاہم کھانڈو ملک کے سب سے زیادہ مقروض وزیر اعلیٰ بھی ہیں، ان پر 180 کروڑ روپے سے زائد کے واجبات ہیں۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا اثاثوں کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے پاس کل 51 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں، جن میں 21 کروڑ روپے منقولہ اور 30 کروڑ روپے غیر منقولہ جائیداد شامل ہے۔
سب سے کم اثاثوں والے وزرائے اعلیٰ میں ممتا بنرجی کے بعد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ دوسرے نمبر پر ہیں، جن کے پاس صرف 55.24 لاکھ روپے کی منقولہ جائیداد ہے۔ کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین تیسرے نمبر پر ہیں۔
ان کے پاس کل 1.18 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں جن میں 31.8 لاکھ روپے منقولہ اور 86.95 لاکھ روپے غیر منقولہ جائیداد شامل ہے۔اے ڈی آر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے موجودہ 30 وزرائے اعلیٰ میں سے 12 وزرائے اعلیٰ یعنی 40 فیصد کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔
ان میں سے 10 وزرائے اعلیٰ یعنی 33 فیصد کے خلاف قتل کی کوشش، اغوا اور رشوت جیسے سنگین الزامات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے خلاف سب سے زیادہ 89 مقدمات درج ہیں۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مرکزی حکومت نے تین اہم بل پیش کیے ہیں، جن کے مطابق اگر وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ یا وزراء سنگین الزامات میں گرفتار ہو کر 30 دن تک حراست میں رہیں گے تو وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکیں گے۔
اے ڈی آر اور این ای ڈبلیو نے یہ رپورٹ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام 30 وزرائے اعلیٰ کے الیکشن سے قبل جمع کرائے گئے حلف ناموں کے تجزیے کے بعد مرتب کی ہے۔ فی الحال منی پور میں صدر راج نافذ ہے