ریاستی لوگو سے چارمینار اور کاکتیہ کلا تھورانم کو ہٹانے کی مخالفت
ریاست بھر میں احتجاج ‘کے ٹی آر کا چارمینارکے دامن میں اعلان‘
کانگریس حکومت پر تنقید۔تلنگانہ کے نئے لوگو کی نقاب کشائی ملتوی
حیدرآباد30؍مئی
(زین نیوزبیورو)
کارگزارصدر بی آر ایس پارٹی کے ٹی راماراؤنے ریاستی لوگو سے چارمینار اور کاکتیہ کلا تھورانم کینشان کو ہٹانے کی کانگریس حکومت کی کوششوں کی مذمت کی۔ آج کے ٹی آر نے پارٹی کے سینئر قائدین کے ساتھ چارمینار کا دورہ کرکے احتجاج کیا اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس حکومت سے سرکاری لوگومیں چارمینار کاکتیہ کے نشان کو نہ ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
کے ٹی آر نے تلنگانہ کے عوام کی عزت نفس اور جذبات کو نظر انداز کرنے والی اس کوشش کو احمقانہ اور ضدی قرار دیا۔ انہوں نے ریاست میں جاری زرعی اور انتظامی بحرانوں، گورنمنٹ کی بدعنوانی سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے ان کوششوں کو پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے ٹی آر نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی تلنگانہ کی تاریخ سے کے سی آر کو مٹانے کی کوششوں اور ان کے اقدامات کو سراسر احمقانہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی تلنگانہ کی تاریخ کو نہیں مٹا سکتا۔
انہوں نے کانگریس کی نو تشکیل شدہ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ گزشتہ دس سالوں کی مثبت پیش رفت کو نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی بغض اور انتقام سے کام لے رہی ہے۔ کے ٹی آر نے انتخابی وعدوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان نشانات کو ہٹانے کی اچانک ضرورت اور عجلت پر سوال اٹھایا جو موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔
حیدرآباد تلنگانہ کی روح ہے، اور چارمینار حیدرآباد کی علامت ہے۔ عالمی سطح پر، حیدرآباد کو چارمینار کی علامت سے پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے چارمینار اور کاکتیہ کلا تھورانم کو ریاستی نشان سے ہٹانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی۔ تلنگانہ کے عوام اور کارکنوں کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت سیاسی بے چینی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔
کے ٹی آر نے انتباہ دیا کہ اگر کانگریس حکومت اپنے فیصلہ کو واپس نہیں لیتی ہے تو بی آر ایس پارٹی تلنگانہ بھر میں احتجاج شروع کرے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب حیدرآباد نے اپنی 400 ویں سالگرہ منائی تو یہ کانگریس حکومت تھی جس نے اس موقع کو شاندار طریقہ سے منایا اور پوری تقریبات کیلئے چارمینار کو لوگو کے طور پر استعمال کیا۔

کے ٹی آر نے موجودہ کانگریس قائدین بالخصوص ریونت ریڈی کا مذاق اڑایا جو حال ہی میں دوسری سیاسی جماعتوں سے شامل ہوئے اور چیف منسٹر بنے، انہیں ان کی اپنی پارٹی کی تاریخ کے بارے میں معلومات کافقدان ہے۔کے ٹی آر نے کے سی آر اور بھارت راشٹریہ سمیتی کی قیادت میں لوگوں کی بے شمار قربانیوں اور شراکت کو اجاگر کیا جس کی وجہ سے تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کے رویہ اور احمقانہ کوششوں نے تلنگانہ کی تشکیل کے جشن کے ماحول کو خراب کردیا ہے۔اس موقع پر ان کے ہمراہ سابق وزراء پدماراؤ گوڑ‘پونالہ لکشمیا‘ ڈاکٹر راجیا‘ صدربی آرایس ضلع حیدرآبادایم گوپی ناتھ‘سنیئر بی آرایس اقلیتی لیڈر شیخ عبداللہ سہیل کے بشمول پارٹی قائدین وکارکنوں کے علاوہ دوسر ے کثیرتعداد میں موجود تھے۔
تلنگانہ کے نئے لوگو کی نقاب کشائی ملتوی
گزشتہ24گھنٹوں سے یہ یہ بات شدت کے ساتھ گردش کررہی ہے کہ تلنگانہ کا نیا لوگو (سرکاری مہر)کوتقریبا قطعیت دی جاچکی ہے۔ کانگریس لیڈروں کے الفاظ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ریلیز ہے لیکن سوشل میڈیا پر یہ کہتے ہوئے فوٹو وائرل ہو گئیکہ یہ فائنل ہے۔ تاہم تلنگانہ کی نئے لوگو کی نقاب کشائی کانگریس حکومت نے ملتوی کر دی
جس کی ابتدائی طور پر2؍جون کو ریلیز ہونے کی امید تھی، حکومت نے اب اعلان کیا ہے کہ وہ اسے ملتوی کر رہی ہے۔ ریونت ریڈی حکومت نے اسے 2؍جون کے بجائے کسی اور دن ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اعلی حکام چیف منسٹرریونت ریڈی سے مشاورت کر رہے ہیں۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ صرف تلنگانہ گانا ہی2؍جون کو ریلیز ہوگا۔
تاہم ایک اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں، عوامی انجمنوں اور تلنگانہ کے عوام کے ایک طبقہ کی طرف سے آنے والی مخالفت کی وجہ سے اس پر نظر ثانی کی ہے۔دریں اثنا، نئے لوگو میں ایسا لگتا ہے کہ ریونت ریڈی حکومت نے کاکتیہ ٹاور اور چارمینار کے بجائے یادگار شہیدان تلنگانہ کو شامل کیا ہے۔ کچھ تصاویر نیٹ پر وائرل ہو رہی ہیں جن کے اوپر تین شیروں کے لوگو ہیں جو قانون، انصاف اور صداقت کی علامت ہے۔یہ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ ریونت ریڈی حکومت نے اس لوگو کو تقریبا حتمی شکل دے دی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب کانگریس حکومت نے40سے زیادہ ڈیزائنوں کی جانچ کی، صرف ایک کو حتمی شکل دی گئی۔ اسے اگلے دو دنوں میں انکارنیشن فیسٹیول کے پس منظر میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم باضابطہ طور پر اعلان کیا گیا کہ اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔نئے لوگو میں چارمینار کو شامل کیا جانا ضروری ہے کیوں کہ دنیا میں حیدرآباد کی شناخت چارمینار سے ہی ہے جس کو اس شہر کو بسانے والے بادشاہ قلی قطب شاہ نے تعمیر کروایا ۔
یہی شہر اب ریاست کا داراخلافہ ہے اس لئے لوگو چارمینار کو شامل کرنا دراصل بانی شہر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ احسان کا بدلہ چکانا بھی ہے اس کے سلاطین کی وجہ آج یہ شہر ہر اعتبارسے پوری دنیا میں جانااور پہچانا جاتا ہے ساتھ ہی یہاں کی عمارتوں وپراجیکٹس سے ہماری حکومتیں اور عوام آج بھی مستفید ہورہی ہیں۔اس ماڈل کی تصویر کوبھی ہم قارئین کی آ را کیلئے دئے دہے ہیں۔