Sushila-karki-kathmandu

نیپال میں عبوری وزیر اعظم کے لیے جنریشن زیڈ مظاہرین کے درمیان تصادم

تازہ خبر عالمی
نیپال میں عبوری وزیر اعظم کے لیے جنریشن زیڈ مظاہرین کے درمیان تصادم
سشیلا کارکی پر ہندوستان نواز ہونے کا الزام، بلن شاہ کی حمایت
نئی دہلی :۔11؍ستمبر
(انٹرنیٹ ڈیسک)
نیپال میں عبوری وزیر اعظم کے نام پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔ جمعرات کو جنرل زیڈ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا، جس کے بعد آرمی ہیڈ کوارٹر کے باہر دونوں گروپوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ اس جھڑپ میں کئی نوجوان زخمی ہو گئے۔مظاہرین کے ایک گروپ نے عبوری وزیر اعظم کے لیے سشیلا کارکی کے نام کو مسترد کر دیا۔
 اس دھڑے کا الزام ہے کہ سشیلا کارکی ہندوستان نواز ہیں اور وہ انہیں قبول نہیں کریں گے۔ یہ گروپ کھٹمنڈو کے میئر بلن شاہ کو وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اگر بلن شاہ وزیر اعظم نہ بنے تو پھر دھرن کے میئر ہرکا سمپانگ کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر اعظم کے نام کے حوالے سے گزشتہ دو روز سے آرمی ہیڈ کوارٹر میں احتجاج کرنے والے گروپوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم ایک گروپ کا مطالبہ ہے کہ یہ مذاکرات آرمی ہیڈ کوارٹر کے بجائے راشٹرپتی بھون میں ہونے چاہئیں۔نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں بغاوت کے دو دن بعد جمعرات کو جنرل زیڈ کے لیڈران بھی سامنے آئے۔
 انیل بنیا اور دیواکر دنگل نے اعلان کیا کہ نوجوانوں نے یہ احتجاج اس لیے شروع کیا ہے کیونکہ وہ پرانے سیاست دانوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق، مقصد آئین کو تحلیل کرنا نہیں بلکہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرنا ہے۔سشیلا کارکی کے بعد اب کلمن گھیسنگ کا نام سامنے آیا ہے۔ بدھ کی شام تک یہ خبریں آ رہی تھیں کہ عبوری وزیر اعظم کے عہدے کے لیے سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کے نام پر اتفاق رائے ہو گیا ہے،
لیکن جمعرات کی دوپہر تک ’’لائٹ مین‘‘ کہلانے والے کلمن گھیسنگ کا نام بھی امیدواروں میں شامل کر لیا گیا۔دوسری جانب فوج نے احتیاطی اقدامات کے طور پر دارالحکومت اور ملحقہ علاقوں میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ رکھا۔ نیپال میں تشدد کے نتیجے میں اب تک 34 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ادھر نیپال کی سپریم کورٹ اتوار کو دوبارہ کام شروع کرنے جا رہی ہے۔
 چیف جسٹس پرکاش مان سنگھ راوت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ عدالت اتوار سے باقاعدہ سماعت کرے گی۔ انہوں نے ججوں، عملے، وکلاء، طلباء، سیکوریٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے حالیہ تشدد کے دوران عدالتی ریکارڈ اور وسائل کو آتش زنی اور توڑ پھوڑ سے محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کی۔
نیپال پولیس نے ان قیدیوں سے اپیل کی ہے جو حال ہی میں جیلوں اور اصلاحی گھروں سے فرار ہوئے ہیں یا باہر آئے ہیں۔ جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں پولیس نے کہا کہ ایسے قیدی جلد از جلد پولیس یا انتظامیہ سے رابطہ کریں اور واپس جائیں۔
نیپال پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی بنود گھمیرے نے کہا کہ اب تک فوج، پولیس اور مسلح پولیس نے ملک کے مختلف حصوں سے 1455 قیدیوں کو پکڑا ہے۔ ان میں سے کچھ قیدی خود پولیس سے رابطہ کر کے آئے تھے جبکہ بیشتر کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔