اسرائیل کے 72 گھنٹوں میں 6 مسلم ممالک پر حملے
200 سے زائد ہلاک، 1000 زخمی
دوحہ پر اسرائیلی حملہ عرب دنیا میں شدید ہلچل
تل ابیب؍دوحہ؍12؍ستمبر
(انٹرنیٹ ڈیسک)
اسرائیل نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مسلم دنیا کے چھ ممالک غزہ (فلسطین)، شام، لبنان، قطر، یمن اور تیونس میں فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ ان کارروائیوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 1000 زخمی ہو چکے ہیں۔یہ حملے پیر اور بدھ کی درمیانی شب سے جاری ہیں۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے “دہشت گردوں کے ٹھکانوں” کو نشانہ بنایا، تاہم مختلف ممالک نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔منگل کو اسرائیلی فضائیہ نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر حملہ کیا، جس میں حماس کے رہنما خلیل الحیا کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کارروائی میں ان کے بیٹے، دفتر کے ڈائریکٹر، تین محافظوں اور ایک قطری سیکیورٹی افسر سمیت 6 افراد ہلاک ہوئے۔ اس وقت حماس رہنما جنگ بندی کے امریکی فارمولے پر بات کر رہے تھے۔اس حملے کے بعد حماس نے جنگ بندی پر رضامندی سے انکار کر دیا۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ“ہم نے وہی کیا جو امریکہ نے 9/11 کے بعد کیا تھا۔
قطر نے اسے “ریاستی دہشت گردی” قرار دیا اور ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا۔ اقوام متحدہ، ترکی، برطانیہ اور یورپی ممالک نے بھی دوحہ حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
لبنان: حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملےپیر کے روز اسرائیلی فضائیہ نے لبنان کے بیکا اور ہرمل اضلاع میں کارروائی کی جس میں 5 افراد ہلاک ہوئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے حزب اللہ کے فوجی مراکز پر کیے گئے۔ اگلے روز ایک اسرائیلی ڈرون نے حزب اللہ کے ایک رکن کو بھی نشانہ بنایا۔اگرچہ نومبر 2024 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی، لیکن حملے تاحال جاری ہیں۔
اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شام میں ایک فضائیہ کے اڈے اور فوجی کیمپ پر حملہ کیا۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (SOHR) کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، لیکن شام کی وزارتِ خارجہ نے اسے ملک کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا۔رپورٹس کے مطابق صرف 2025 میں اب تک اسرائیل نے شام پر 86 فضائی اور 11 زمینی حملے کیے، جن میں 61 افراد ہلاک اور 135 تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
بدھ کے روز اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر دوسرا بڑا حملہ کیا، جس میں حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ صحت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 46 اور زخمیوں کی تعداد 165 ہو گئی ہے۔اس سے قبل 28 اگست کو کیے گئے حملے میں حوثی وزیر اعظم احمد الرحوی سمیت 10 افراد مارے گئے تھے۔
پیر کی رات اسرائیلی ڈرون نے تیونس کی ایک بندرگاہ پر پرتگالی پرچم تلے سفر کرنے والے خاندان کی کشتی کو نشانہ بنایا۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اگلے روز اسرائیلی ڈرون نے برطانوی پرچم والے جہاز پر بھی حملہ کیا۔پیر کو غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 150 فلسطینی ہلاک اور 540 زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2023 سے اب تک غزہ میں 64,600 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اس کے علاوہ 400 افراد بھوک سے مر گئے اور ہزاروں ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے۔ فی الحال غزہ کا تقریباً 75 فیصد حصہ اسرائیلی قبضے میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوحہ حملے پر اسرائیل سے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔اقوام متحدہ نے ان حملوں کو “تشویشناک” قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔
ترکی، ایران، پاکستان اور متعدد عرب ممالک نے اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک نے مشاورت شروع کر دی ہے تاکہ خطے میں مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جا سکے۔