نئے سکریٹریٹ میں آتشزدگی  پرکانگریس کی وضاحت طلبی  

تازہ خبر تلنگانہ
دورہ کی کوشیش ناکام ‘ بیشتر قائدین گرفتار
کے سی آر توہم پرستی کا شکار
حیدرآباد:۔3؍فروری
 (زین نیوزبیورو)
 سابق وزیر محمد علی شبیر نے آج مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت نئے سکریٹریٹ کی زیر تعمیر عمارت میں زبردست آگ لگنے کے واقعہ پر وضاحت جاری کرے۔
ٹی پی سی سی کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر ملو روی،کارگذارصدر ایم انجن کمار یادو، خیرت آباد ڈی سی سی صدر ڈاکٹر روہن ریڈی اور دیگر قائدین کو سابق وزیر شبیر علی،کے ساتھپولیس نے اس وقت گرفتار کر لیا جب انہوں نے نقصان کا جائزہ لینے   نئے سکریٹریٹ کا دورہ کرنے کی کوشش کی۔
 ابتدا میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ انہیں حیدرآباد پولیس نے کانگریس ہیڈکوارٹر گاندھی بھون میں ہی روک دیا اور جب انہوں نے باہر آنے کی کوشش کی تو انہیں حراست میں لیکر گوشہ محل پولیس اسٹیشن منتقل کیا  اور بعد میں رہاکردیا ۔
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کے سی آر حکومت پر الزام لگایا کہ وہ آگ کے واقعہ کو ’’تمثیلی مشق‘‘قرار دے کر اسے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
 صدر  ٹی پی سی سی مسٹر اے ریونت ریڈی نے حقائق جاننے کیلئے پارٹی کی کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ نئی سکریٹریٹ کی عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا مطالعہ کیا جا سکے جو کہ 550کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تعمیر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آگ کے واقعے سے متعلق تمام تفصیلات جاننے کا حق ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی آر ایس حکومت اگر یہ واقعی  ’’تمثیلی مشق‘‘ سمجھتی ہے تو اپوزیشن لیڈروں کو اس جگہ کا معائنہ کرنے کی اجازت دینے سے کیوں گھبرارہی ہے ۔
آگ بجھانے11فائر انجنوں کی ضرورت کیوں پڑی۔ "انہوں نے مزید کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر را ؤکو چاہئے کہ وہ پولیس عہدیداروں کو اس طرح کے غیر معقول اور غیر منطقی نظریات بولنے پر مجبور کرنا بند کریں۔
  انہوں نے الزام لگایا کہ  کے سی آر نے اپنے توہم پرستانہ عقائد کو پورا کرنے کے لئے دو مساجد اور ایک مندر کو مسمار کر کے ایک نیا سکریٹریٹ تعمیر کر دیا ہے۔ اب کے سی آر کو ان عبادت گاہوں کو منہدم کرنے کی لعنت کا سامنا ہے ۔