بجرنگ دل لیڈر گاؤ رکھشک ‘مونو مانیسرکو ہریانہ پولیس نےگرفتار کیا
8 ماہ سے مفرور تھا۔ بھیوانی میں ناصر جنید کے قتل کا ملزم
چندی گڑھ:۔12؍ستمبر
(زین نیوز ڈیسک)
ہریانہ پولیس نے مونو مانیسر کو گرفتار کر لیا ہے۔ مونو مانیسر پر ناصر جنید قتل کیس میں ملوث ہونے کا الزام ہے جنہیں بھیوانی میں زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اسے راجستھان پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ مونو کو ان کے ہی گاؤں مانیسر سے پکڑا گیا ہے۔ وہ گزشتہ 8 ماہ سے مفرور تھا۔
منو مانیسر حال ہی میں خبروں میں تھے جب ان کا نام حالیہ نوح تشدد میں بھی آیا۔ ہریانہ کے نوح اور آس پاس کے اضلاع میں تشدد پھیل گیا تھا اور 31 جولائی کو میوات کے نوح میں جلوس کے دوران وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے ذریعہ نکالے گئے ایک مذہبی جلوس پر مبینہ طور پر حملہ اور پتھراؤ کے بعد فسادات گروگرام تک بھی پہنچ گئے تھے۔
جلوس پر حملے کے بعد ہونے والے تشدد کے فوراً بعد، افواہیں پھیل گئیں کہ یاترا میں مونو مانیسر کی موجودگی نے تشدد کو ہوا دی تھی۔ تاہم ریلی میں ان کی موجودگی یا غیر حاضری کی اطلاعات کی تصدیق نہیں ہو سکی اور یہ ایک متنازعہ موضوع بنی رہی۔
#WATCH | Bajrang Dal's Monu Manesar detained by Haryana Police. Details awaited.
(Visuals: Seen in CCTV of a local shopkeeper) pic.twitter.com/0ufirgX6jy
— ANI (@ANI) September 12, 2023
16 فروری 2023 کو ہریانہ کے بھیوانی میں ایک بولیرو گاڑی سے دو جلی ہوئی لاشیں ملی تھیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ لاشیں راجستھان کے بھرت پور ضلع کے گھاٹمیکا گاؤں کے جنید اور ناصر کی ہیں۔ ہریانہ کے کئی گاؤ رکھشکوں پر ان کے قتل کا الزام تھا۔ ان میں سب سے مشہور نام مونو مانیسر عرف موہت یادو کا تھا۔
ناصر جنید کو قتل سے ایک روز قبل اغوا کیا گیا تھا۔راجستھان کے ضلع بھرت پور کے پہاڑی علاقے گھاٹمیکا گاؤں کے رہائشی ناصر (28) اور جنید (33) کو 15 فروری کو اغوا کیا گیا تھا۔
اگلے دن ہریانہ کے بھیوانی میں بولیرو میں ان کے کنکال(بقیات) ملے۔ اس معاملے میں دونوں کے اہل خانہ نے گائے کے محافظ مونو مانیسر اور بجرنگ دل سے وابستہ ان کے ساتھیوں پر لڑائی کے بعد دونوں کو زندہ جلا کر ہلاک کرنے کا الزام لگایا تھا۔
اس کے بعد بھرت پور تھانے نے مونو مانیسر اور دیگر لوگوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں 8 مفرور ملزمان کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔
بھائی کے سسرال سے واپس آتے ہوئے انہیں درمیان میں روک لیا گیا۔جنید کے کزن اسماعیل نے الزام لگایا کہ جنید اور ناصر 14 فروری کو بھوروباس سیکری گاؤں گئے تھے۔ یہاں اس کے بھائی کا سسرال ہے۔ رات کو وہیں قیام کیا۔ بدھ کی صبح یعنی 15 فروری کو گھر آرہا تھا۔
راستے میں ان دونوں کو بجرنگ دل کے لوگوں نے روکا۔ ان کے نام پوچھے۔ اس کے بعد دونوں کو گاڑی سے باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔ جیسے ہی ناصر جنید نے دیکھا کہ انہیں گھسیٹا جا رہا ہے، انہوں نے جان بچانے کے لیے اپنی بولیرو کار کو بھگا دیا۔
بولیرو کا پیچھا کیا گیا اور دونوں طرف سے ٹکر ماری گئی۔اہل خانہ نے الزام لگایا کہ جنید ناصر کو بولیرو میں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے دیکھ کر آگے اور پیچھے سے ٹکر ماری گئی۔
اس کے بعد دونوں کو مارا پیٹا گیا۔ لڑائی کے بعد وہ ناصر جنید کو فیروز پور جھرکہ تھانے لے گیا۔ جہاں بجرنگ دل کے لوگوں نے دونوں کو پولیس کے حوالے کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی حالت اس حد تک بگڑ چکی تھی کہ پولیس نے انہیں حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔
