Omer Abdullah

عمر عبداللہ کی طلاق کی درخواست دہلی ہائی کورٹ نے مسترد کر دی، فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار

تازہ خبر قومی
عمر عبداللہ کی طلاق کی درخواست دہلی ہائی کورٹ نے مسترد کر دی، فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار
نئی دہلی:۔12؍ڈسمبر
(زین نیوز ڈیسک)
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی اہلیہ پائل عبداللہ سے  طلاق کی درخواست دائر کی تھی، جسے دہلی ہائی کورٹ نے منگل (12 دسمبر) کو مسترد کر دیا۔ جج سنجیو سچدیوا اور وکاس مہاجن کی بنچ نے 30 اگست 2016 کو دیے گئے فیملی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ عمر عبداللہ پائل عبداللہ کی طرف سے کسی بھی جسمانی یا ذہنی ظلم کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے بھی فیملی کورٹ کے فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔
 ہائی کورٹ نے کہا کہ اسے فیملی کورٹ کے فیصلے میں کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ فیملی کورٹ نے عمر عبداللہ کی  بیوی پائل عبداللہ کو طلاق دینے سے انکار کر دیا تھا۔
عمر عبداللہ نے عدالت کو بتایا کہ پائل عبداللہ کے ساتھ ان کی شادی مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔ اس نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی بنیاد پر اس سے طلاق مانگی تھی۔ لیکن فیملی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے طلاق دینے سے انکار کر دیا تھا
کہ وہ پائل عبداللہ کو اس کے ساتھ ہونے والے ظلم کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام رہے ہیں۔ اس بنیاد پر عدالت نے ان کی طلاق کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ جس کے بعد عمر نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
 عمر عبداللہ اور پائل کی شادی یکم ستمبر 1994 کو ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ عمر 2009 سے اپنی بیوی پائل سے الگ رہ رہے ہیں۔ عمر نے پائل پر جسمانی اور ذہنی تشدد کا الزام لگاتے ہوئے طلاق کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ وہ ان الزامات کو سچ ثابت کرنے کے لیے ثبوت فراہم نہیں کر سکے۔
عمر عبداللہ نےفیملی کورٹ میں کہا تھا۔ پائل سے میری شادی پوری طرح ٹوٹ چکی ہے۔ ہمارے درمیان 2007 سے ازدواجی تعلقات نہیں ہیں۔
ان دونوں کی محبت کی شادی 1994 میں ہوئی تھی۔پائل کا تعلق سکھ خاندان سے ہے۔ ان کے والد میجر جنرل رام ناتھ فوج سے ریٹائر ہوئے۔ پائل اور عمر کی پہلی ملاقات دہلی کے اوبرائے ہوٹل میں ہوئی تھی، جہاں دونوں ایک ساتھ کام کرتے تھے۔ ان کی محبت کی شادی سال 1994 میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بیٹے ظہیر اور ضمیر ہیں۔
پائل سرکاری بنگلہ خالی نہیں کر رہی تھیں۔عمرعبداللہ 1999 میں واجپائی حکومت میں وزیر تھے۔ پھر انہیں دہلی میں سرکاری بنگلہ مل گیا۔ اس بنگلے میں اس کی بیوی پائل رہتی تھی۔
 پائل اپنی اور اپنے دو بیٹوں کی حفاظت کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ خالی کرنے سے انکار کر رہی تھی۔ اس کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے بنگلہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بنگلہ خالی کرایا۔
 ستمبر 2023 میں سنگل بنچ نے عمر عبداللہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ پائل عبداللہ کو ماہانہ 1,50,000 روپے کا عبوری مینٹیننس الاؤنس ادا کریں۔ اس کے علاوہ عدالت نے عمر عبداللہ کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے بالغ بیٹوں کی تعلیم کے لیے 60 ہزار روپے ماہانہ دیں۔