رابرٹ واڈرا پر 58 کروڑ روپے غیر قانونی طور پر کمانے کا الزام
ای ڈی کی چارج شیٹ میں انکشاف
نئی دہلی، 10 اگست
(انٹر نیٹ ڈیسک)
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپنی تازہ چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس کی رہنما پرینکا گاندھی کے شوہر رابرٹ واڈرا نے غیر قانونی ذرائع سے 58 کروڑ روپے کمائے اور یہ رقم جائیدادوں کی خریداری اور سرمایہ کاری میں استعمال کی۔ ای ڈی کے مطابق، واڈرا نے اس رقم سے اپنی گروپ کی کمپنیوں کو قرضے دیے اور ان کے قرضے بھی ادا کیے۔
نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق، واڈرا کو بلیو بریز ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (BBTPL) کے ذریعے تقریباً 5 کروڑ روپے موصول ہوئے، جبکہ 53 کروڑ روپے اسکائی لائٹ ہاسپیٹیلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ (SLHPL) کے ذریعے حاصل ہوئے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ رقم مجرمانہ سرگرمیوں سے حاصل کی گئی اور بعد میں مختلف جائیدادوں اور سرمایہ کاری میں لگائی گئی۔ای ڈی کے مطابق، بینک ٹرانزیکشنز، کمپنی کے ریکارڈز اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر رقم کے بہاؤ کا پتا لگایا گیا۔
یہ کمپنیاں واڈرا کے قریبی ساتھیوں کے زیرِانتظام تھیں اور پیسے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ان چینلز کا استعمال کیا گیا۔ای ڈی نے عدالت میں چارج شیٹ جمع کرا دی ہے اور اب اس پر سماعت ہوگی۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو واڈرا کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت سزا ہو سکتی ہے۔
فی الحال واڈرا نے ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ای ڈی نے 17 جولائی کو ہریانہ کے گروگرام اراضی سودے کے معاملے میں واڈرا کے خلاف یہ چارج شیٹ پیش کی تھی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی تفتیشی ایجنسی نے واڈرا کے خلاف کسی مجرمانہ کیس میں چارج شیٹ دائر کی۔چارج شیٹ میں دیگر کئی افراد اور کمپنیوں کے نام بھی شامل ہیں، جبکہ واڈرا کی 37.64 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد بھی ضبط کی گئی ہے۔
یہ مقدمہ ستمبر 2008 کے شکوہ پور (موجودہ سیکٹر 83) کی اراضی سودے سے جڑا ہوا ہے۔ اس کیس میں 2018 میں واڈرا، اس وقت کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر سنگھ ہڈا، ریئل اسٹیٹ کمپنی ڈی ایل ایف اور ایک پراپرٹی ڈیلر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں بدعنوانی، جعلسازی اور دھوکہ دہی سمیت دیگر الزامات شامل ہیں