جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ کوسمن جاری
ا ی ڈی نےمنی لانڈرنگ کیس میں پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا
نئی دہلی:۔11؍جنوری
(زین نیوز ڈیسک)

(ای ڈی ) نے نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر فاروق عبداللہ کو منی لانڈرنگ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے جمعرات کو طلب کیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بدھ کو بتایا ہے
سمجھا جاتا ہے کہ 86 سالہ سیاستدان کو وفاقی ایجنسی کی جانب سے جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں بلایا گیاہے ۔
ای ڈی نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ کو منی لانڈرنگ کیس میں طلب کیا ہے۔ تفتیشی ایجنسی نے فاروق کو جمعرات (11 جنوری) کو سرینگر میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا ہے۔
ای ڈی نے یہ کارروائی جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) کے فنڈز میں بے ضابطگیوں کے سلسلے میں کی ہے۔ ای ڈی اور سی بی آئی دونوں اس معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔ ای ڈی نے اس معاملے میں سال 2022 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس معاملے میں فاروق سے پہلے ہی پوچھ گچھ ہو چکی ہے۔
اس کے مطابق 86 سالہ فاروق عبداللہ 2001 سے 2012 تک جے کے سی اے کے صدر رہے۔ 2004 اور 2009 کے درمیان جے کے سی اے حکام سمیت کئی لوگوں نے کرکٹ ایسوسی ایشن کے فنڈز اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے تھے۔
ای ڈی نے 2018 میں سی بی آئی کے ذریعہ داخل کردہ چارج شیٹ کی بنیاد پر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے خلاف جانچ شروع کی تھی۔
فاروق پر ایسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرنے کا الزام ہے۔ اس نے جے کے سی اے میں تقرریاں کیں تاکہ بی سی سی آئی کے اسپانسر شدہ فنڈز میں ہیرا پھیری کی جا سکے۔
2015 میں جے کے سی اے میں گھوٹالے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپی گئی تھی۔جموںو کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن (جے کے سی اے) میں تقریباً 113 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی شکایت کی گئی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا کہ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے یہ رقم آپس میں تقسیم کی۔
2015 میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے کرکٹ گھوٹالے کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپ دی تھی۔ 11 جولائی 2018 کو سی بی آئی کی ایف آئی آر کی بنیاد پر ای ڈی نے منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی درج کیا اور تحقیقات شروع کی۔
اس کیس میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ، سلیم خان اور احسن احمد مرزا مرکزی ملزم ہیں۔ ایجنسی نے ستمبر 2019 میں جے کے سی اے کے اس وقت کے خزانچی احسن احمد مرزا کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔
ای ڈی نے کیجریوال کو 3 اور سورین کو 7 سمن بھیجے ہیں۔ای ڈی نے دہلی کے سی ایم اروند کیجریوال کو 3 اور جھارکھنڈ کے سی ایم ہیمنت سورین کو 7 سمن جاری کیے ہیں۔
یہ دونوں کسی بھی سمن میں ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ ای ڈی ان دونوں کو تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر گرفتار کر سکتا ہے۔
ای ڈی نے کیجریوال کو 3 سمن بھیجے تھے اور انہیں 2 نومبر، 21 دسمبر اور 3 جنوری کو حاضر ہونے کو کہا تھا۔ کیجریوال نے ان سمن کو غیر قانونی اور سیاسی طور پر محرک قرار دیا اور ای ڈی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا۔ 21 دسمبر کو سمن ملنے کے بعد کیجریوال 10 دن کے لیے پنجاب کے ہوشیار پور وپسنا کے لیے گئے تھے۔
