راہول گاندھی کا وزیراعظم پر شدید حملہ، "آپریشن سیندور” کو شبیہ بچانے کی مشق قرار دیا
وزیراعظم نریندر مودی میں ہمت ہے تو کہنا چاہئے کہ ٹرمپ جھوٹا ہے۔راہول گاندھی
ہم نے براہ راست پاکستان کے سینے پر حملہ کیا۔مودی
وزیراعظم نریندر مودی میں ہمت ہے تو کہنا چاہئے کہ ٹرمپ جھوٹا ہے۔راہول گاندھی
ہم نے براہ راست پاکستان کے سینے پر حملہ کیا۔مودی
نئی دہلی :۔29؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں "آپریشن سیندور” پر جاری بحث کے دوسرے دن لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہول گاندھی اور کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن دراصل وزیراعظم کی شبیہ کو بچانے کی ایک مشق تھا۔ آپ نے صرف 35 منٹ میں پاکستان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ میں لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پائلٹس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، اور ان کی صلاحیتوں کو محدود کر دیا۔راہول گاندھی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ رمپ 29 بار کہہ چکے ہیں کہ ہم نے جنگ روک دی۔ اگر وزیراعظم میں ہمت ہے تو وہ ایوان میں کھڑے ہو کر اعلان کریں کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ اگر وزیراعظم کے پاس اندرا گاندھی کی طاقت کا 50 فیصد بھی ہے تو انہیں صاف الفاظ میں کہنا چاہئے کہ جنگ بندی ٹرمپ کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کریں کہ آپریشن سیندور میں ہندوستان کا کوئی بھی لڑاکا طیارہ نہیں گرا۔
راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیراعظم مودی امریکہ کے صدر سے یہ سوال بھی نہیں کر سکتے کہ وہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لنچ پر کیسے مدعو کر سکتے ہیں۔انہوں نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر پر بھی تنقید کی اور کہاکہ وزیر خارجہ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ پہلگام واقعے کے بعد کسی بھی ملک نے پاکستان کی مذمت نہیں کی،
اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا ہمیں پاکستان کے برابر سمجھ رہی ہے۔اس سے پہلے پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام نے حکومت پر بھروسہ کر کے پہلگام کا رخ کیا، لیکن حکومت نے انہیں بھگوان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
جب وہاں معصوم لوگ قتل ہو رہے تھے، تب ایک بھی سیکیورٹی اہلکار نظر نہیں آیا۔ وزیراعظم”آپریشن سیندور” کا کریڈٹ لینے تو فوراً آتے ہیں، لیکن ذمہ داری لینے کیوں نہیں آتے؟
وزیراعظم نریندر مودی کا جوابدوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں جواب دیتے ہوئے کہاکہ 22 اپریل کا بدلہ صرف 22 منٹ میں لے لیا گیا۔ ہماری افواج نے پاکستان میں کئی دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان پر براہِ راست حملہ کیا اور اس کی ایٹمی دھمکی کو بے اثر ثابت کیا۔
آپریشن سندھ کی کامیابی پورے ملک کی کامیابی ہے، اور قوم اسے ‘وجے اتسو’ کے طور پر منا رہی ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا، 193 ممالک میں سے صرف 3 نے پاکستان کے حق میں بیان دیا۔ یہ ہماری خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان کے ساتھ کئی بار جنگیں لڑی ہیں، لیکن یہ پہلی بار تھا کہ ہم ان جگہوں تک پہنچے جہاں وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
بہاولپور اور مریدکے جیسے ٹھکانے زمیں بوس کیے گئے۔”وزیراعظم مودی نے زور دے کر کہاکہ "آپریشن سیندور” نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہندوستان اب اپنی شرائط پر اور اپنے انداز میں جواب دے گا۔ ایٹمی بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی۔
نریندر مودی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کو ایک گہری پریشان کن سازش قرار دیا جس کا مقصد مذہب کی بنیاد پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا تھا۔ انہوں نے دہشت گردوں کے بچھائے گئے جال میں نہ پھنسنے اور اتحاد اور تحمل کے ذریعے ان کے ایجنڈے کو شکست دینے کے لیے ہندوستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔
پی ایم مودی نے کہا کہ وہ ان لوگوں کو آئینہ دکھانے ایوان میں آئے ہیں جو آپریشن سیندورکے دوران ہندوستان کے موقف کو تسلیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے بحران کے دوران شہریوں سے ملنے والی زبردست حمایت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں اس ملک کے لوگوں کا مقروض ہوں اور ان کی طاقت کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں۔
