malegoan

سادھوی پرگیہ سمیت تمام ملزم بری: مالیگاؤں دھماکہ کیس میں 17 سال بعد این آئی اے عدالت کافیصلہ

تازہ خبر جرائم حادثات قومی
سادھوی پرگیہ سمیت تمام ملزم بری: مالیگاؤں دھماکہ کیس میں 17 سال بعد این آئی اے عدالت کا فیصلہ
نئی دہلی :۔31؍جولائی
(زین نیوز ڈیسک)
 مالیگاؤں دھماکہ کیس میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت سمیت تمام سات ملزمین کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ملزمین کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہٰذا انہیں شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔
ملزمین میں سادھوی پرگیہ، کرنل پروہت، رمیش اپادھیائے، اجے رہیرکر، سدھاکر چترویدی، سمیر کلکرنی اور سدھاکر دھر دویدی شامل تھے۔ عدالت نے ان سب کو یو اے پی اے، اسلحہ ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دیگر دفعات کے تحت عائد تمام الزامات سے بری کر دیا۔ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل سادھوی پرگیہ کے قبضے میں تھی یا دھماکہ خیز مواد کرنل پروہت کے زیرِ استعمال تھا۔
جج لاہوتی نے کہا کہ دھماکہ ہوا ہے تاہم یہ ثابت نہیں ہوا کہ بم موٹر سائیکل میں رکھا گیا تھا۔ یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ موٹرسائیکل سادھوی پرگیہ کے نام کی تھی۔ یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ کرنل پرساد پروہت نے بم بنایا تھا۔
عدالت نے شواہد میں خامیوں، تفتیشی نقائص، آلودہ نمونوں اور غیر مؤثر قانونی منظوریوں کو فیصلے کی بنیاد بنایا۔29 ستمبر 2008 کو رمضان کے مہینے میں مالیگاؤں میں بم دھماکے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ابتدائی تحقیقات مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کی تھیں، بعد ازاں یہ کیس 2011 میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو منتقل کر دیا گیا۔ 2016 میں این آئی اے نے اس کیس میں چارج شیٹ داخل کی۔
متاثرین کے وکیل شاہد نوین انصاری نے کہا کہ ہم این آئی اے عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں اور حکومت اس معاملے میں ناکام رہی ہے۔اس دوران تین تحقیقاتی ایجنسیاں اور چار جج تبدیل ہوئے۔اس مقدمے میں ایک ملزم کو 2011 میں ضمانت ملی تھی، جب کہ باقی چھ ملزمین آٹھ سال جیل میں گزارنے کے بعد 2017 میں ضمانت پر رہا ہوئے۔
فیصلہ دراصل 8 مئی 2025 کو سنایا جانا تھا، لیکن بعد میں اسے محفوظ کر کے 31 جولائی کو سنایا گیا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد متاثرین کے وکیل شاہد نوین انصاری نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
 ان کے مطابق تحقیقاتی ایجنسیوں اور حکومت دونوں نے اس معاملے میں انصاف دلانے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سادھوی پرگیہ کو نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ فیصلہ انصاف کی فتح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض پولیس افسران نے انہیں بتایا تھا کہ سادھوی پرگیہ پر تشدد کیا جا رہا ہے،
جس کے بعد وہ ان سے ملاقات کے لیے گئیں تھیں۔یہ مقدمہ ملک کے ان چند حساس ترین معاملات میں شامل رہا ہے جس پر برسوں تک سیاسی، عدالتی اور سماجی سطح پر بحث ہوتی رہی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب نگاہیں ہائی کورٹ کی کارروائی پر مرکوز ہوں گی جہاں متاثرین انصاف کی نئی کوشش کریں گے