تلنگانہ میں گزشتہ رات سے ہی انتہائی موسلا دھار بارش۔ ملوگو میں 650 ملی میٹرریکارڈ
کئی علاقوں میں سیلاب اور کئی آبی ذخائر ٹوٹ گئے گاؤں کے رابطہ منقطع
کڑم پراجکٹ خطرہ کی زد میں۔گوداوری میں دوسرے خطرہ کا نشان جاری
موسلا دھار بارش کے پیش نظر تلنگانہ حکومت الرٹ
حیدرآباد :۔27؍جولائی
(زین نیوز)
تلنگانہ ریاست کے کئی علاقوں میں کل رات سے ہی انتہائی موسلا دھار بارش ہورہی ہے، ملوگو کے وینکٹا پور منڈل میں لکشمی دیوییٹ میں صبح 8 بجے تک سب سے زیادہ 649.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
کڑم پراجکٹ خطرے کی زد میں ہے۔سیلابی پانی میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ، کڑم پراجیکٹ کے اوپر سے آنے والا سیلابی پانی گنجائش سے باہر ہے۔پراجکٹ کے
4 دروازے کھول دئیے گئے ہیں اس کے باوجود پانی پراجکٹ کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔کڑم گاؤں کے لوگوں کا کہنا تھا کہ جو صورتحال گزشتہ سال 13 جولائی کو ہوئی تھی وہ دوبارہ آگئی ہے۔عوام نے رکن اسمبلی اور حکام پر اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے کہ انھوں نے پراجکٹ کے گیٹوں کی مرمت میں تساہلی کا مظاہرہ کی ہے ۔عوام نے رکن اسمبلی کڑم اور ریاستی وزیر کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔
لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سال یہ پروجیکٹ ڈھل جائے گا کیونکہ انہوں نے پچھلے سال کی خطرناک صورتحال کو خاطر میں نہیں لایا۔
وہیں حکام نے گوداوری میں دوسری خطرے کے نشان جاری کردیا گیا ہے
جے شنکر بھوپال پلی ضلع کے چتیال میں اب تک 616.5 ملی میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھوپال پلی کے چیل پور اور ریگونڈا میں بالترتیب 475.8 ملی میٹر اور 467 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بھدرادری کوتہ گوڈیم ضلع کے کارکا گوڈیم میں 390.5 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔
جبکہ سابق متحدہ ضلع ورنگل انتہائی موسلادھار بارش کی زد میں ہے، وہیں سابقہ کریم نگر، عادل آباد اور کھمم اضلاع میں بھی مسلسل بارش کی شدت کم نہیں ہے۔
زیادہ تر اضلاع میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جن میں اکثریت 150 ملی میٹر سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ ریاستی دارالحکومت میں سر ی لنگم پلی منڈل کے میا پور میں 65.8 ملی میٹر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بارش کا اثر آبپاشی پراجکٹس اور آبی ذخائر پر بہت زیادہ پڑا ہے، کئی آبی ذخائر بہہ گئے ہیں اور آس پاس کے علاقوں میں سیلاب آ گیا ہے۔
مرکزی محکمہ موسمیات، حیدرآباد کے صبح 7 بجے کے بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ حیدرآباد، جنگاؤں، بھوپال پلی، کریم نگر، میدچل۔ملکاجگیری، رنگاریڈی، سدی پیٹ، ورنگل، ہنمکنڈہ اور یادادری۔بھونگیر میں بھاری سے بہت زیادہ بارش کی توقع ہے۔
حیدرآباد میں ہونے والی بارش نے نہ صرف بہت سے علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل پیدا کیے ہیں، خاص طور پر نشیبی علاقوں میں بلکہ مختلف علاقوں میں ٹریفک کے بڑے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔
شہر میں گزشتہ کچھ دنوں سے ہو رہی شدید بارش کے درمیان کل شام 4 بجے حمایت ساگر کے دو فلڈ گیٹس کوکھول دیا گیا تھا۔ حکام نے موسیٰ ندی میں پانی چھوڑنے کے لیے دوپہر 2:30 بجے عثمان ساگر کے دو فلڈ گیٹس کو بھی اٹھا لیا ہے۔
تلنگانہ اسٹیٹ ڈیولپمنٹ پلاننگ سوسائٹی (TSDPS) کی رپورٹ کے مطابق، 26 جولائی کی صبح 8:30 بجے سے آج صبح 6 بجے تک، حیدرآباد کے تمام علاقوں میں نمایاں بارش ہوئی۔
بندلا گوڈا شہر میں سب سے زیادہ بارش 54.8 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد گولکنڈہ اور شیخ پیٹ میں بالترتیب 51.3 ملی میٹر اور 47.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔
باقی اضلاع میں درمیانی سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ آزاد موسمی تجزیہ کار بشمول ٹی بالاجی جنہیں تلنگانہ ویدرمین کے ان کے ٹویٹر ہینڈل سے جانا جاتا ہے نے حیدرآباد شہر اور وسطی تلنگانہ میں بہت زیادہ تیز بارشوں کے بارے میں انتباہ دیتے ہوئے ٹویٹ کیا ہے۔ ندیوں اور آبی ذخائر کے بہہ جانے، سڑکیں منقطع ہونے اور رہائشی علاقوں کے زیر آب آنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔
نرمل ضلع میں کڈیم ریزروائر کے اوپر پانی بہہ رہا ہے۔ سوشل میڈیا ندیوں اور دیگر آبی ذخائر کے بہہ جانے، شاہراہوں کے بند ہونے اور رہائشی علاقوں کی دلدل کی ویڈیوز سے بھرا ہوا ہے۔
Alert #Hyderabadi:
2 flood gates of Himayat Sagar lifted and releasing 1350 cusecs water into Musi river at 4 pm.
2 flood gates of Osman Sagar lifted and releasing 216 cusecs water into Musi river at 2.30 pm.#HimayatSagar #OsmanSagar #HyderabadRains #Hyderabad pic.twitter.com/v9BJAym3IV
— Surya Reddy (@jsuryareddy) July 26, 2023