G Vivek Venakatswamy 1

تلنگانہ بی جے پی کو زبردست دھکا ۔ سابق ایم پی وویک پارٹی سے مستعفی

تازہ خبر تلنگانہ
تلنگانہ بی جے پی کو زبردست دھکا ۔ سابق ایم پی وویک پارٹی سے مستعفی
راہول گاندھی سے ملاقات کے بعد کانگریس میں شامل
حیدرآباد: ۔یکم؍نومبر
(زین نیوز)
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ایک اور جھٹکا دیتے ہوئےسابق ایم پی وویک وینکٹ سوامی نے بدھ یکم نومبر کو پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔
 اور اے آئی سی سی کے سابق صدر راہول گاندھی کی موجودگی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔تلنگانہ بی جے پی کےصدر جی کشن ریڈی کو لکھے گئے خط میں بی جے پی کے نیشنل ایگزیکٹو بورڈ کے رکن وویک نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔
نووٹیل حیدرآباد میں راہول گاندھی سے ملاقات کے بعد وویک کے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی جہاں ان کے ساتھ ٹی پی سی سی کےصدر ریونت ریڈی بھی  موجودتھے۔وینکٹ سوامی بی جے پی پارٹی کی مینی فیسٹو کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے۔
ٹی پی سی سی کے صدر ریونت ریڈی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے وویک کو کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کا تہہ دل سے خیرمقدم کیا اور انہوں نے اسے قبول کیا۔
معلوم ہوا ہے کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (TPCC) کے صدر اے ریونت ریڈی نے وویک سے رابطہ کیا اور ان سے کانگریس میں شامل ہونے کو کہا وویک کے بیٹے ومشی کرشنا کو کانگریس کی جانب سے چنور حلقہ سے امیدوار بنائے جانے کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق سابق رکن پارلیمنٹ پیداپلی جنہوں نے اس وقت تلنگانہ تحریک میں بطور رکن پارلیمنٹ کلیدی رول ادا کیا تھاتلنگانہ میں بی جے پی کے کام کرنے کے طریقے سے ناخوش ہیں۔
جی وویک 2009 میں پیداپلی حلقہ سے پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئے تھے اور کانگریس پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ بھارت راشٹرا سمیتی (اس وقت ٹی آر ایس) میں شامل ہو گئے۔
تلنگانہ بل کی منظوری کے بعد وہ کانگریس میں واپس آئے اور بعد میں بی آر ایس میں دوبارہ شامل ہوئے۔ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں انہوں نے بی آر ایس سے پیداپلی کے ٹکٹ کی توقع کی تھی لیکن انہیں نامزدگی نہیں ملی
 سی ایم اور بی آر ایس کےصدر کے چندر شیکھر راؤ نے ان کی جگہ ایک نئے آنے والے کو لے لیا۔اس کے بعد وویک نے پارلیمانی انتخابات کے بعد بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔
تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے قبل ناراض قائدین دوسری پارٹیوں میں کود رہے ہیں۔ حال ہی میں سابق ایم ایل اے کے راجگوپال ریڈی نے بھی بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں دوبارہ شمولیت اختیار کی تھی۔