غزہ امن معاہدہ: حماس نے آخری 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا
اسرائیل نے تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کی رہائی شروع کرد ی
امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا
تل ابیب؍ قاہرہ:۔13؍اکتوبر
(انٹر نیٹ ڈیسک)
(انٹر نیٹ ڈیسک)
حماس نے پیر کی صبح تمام 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ امن معاہدے کے تحت رہا کر دیا، جس کی ثالثی ٹرمپ انتظامیہ نے کی تھی۔یہ پیش رفت دو سال سے زائد عرصے کے بعد عمل میں آئی ہے، جس کے دوران یہ یرغمالی غزہ میں قید رہے۔ ان میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔
دو سال تک زیرِ حراست رہنے کے بعد، تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی نے جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی ہے۔ان کی رہائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل پہنچنے سے کچھ دیر قبل شروع ہوئی، جو مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں تاکہ اپنے غزہ امن منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکیں۔یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیل اور امریکہ دونوں کے لیے جنگ بندی کا اہم مطالبہ تھامعاہدے کے مطابق، حماس کو پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر تک تمام 20 یرغمالیوں کو رہا کرنا تھا۔
پہلا گروپ سات یرغمالیوں پر مشتمل صبح آٹھ بجے کے فوراً بعد رہا کیا گیا۔حماس نے انہیں ریڈ کراس کے حوالے کیا، جس نے انہیں غزہ کے اندر اسرائیلی افواج کے سپرد کر دیا۔تقریباً دو گھنٹے بعد باقی 13 یرغمالیوں کو بھی رہا کر دیا گیا۔رہائی سے قبل حماس کے جنگجوؤں نے یرغمالیوں کی اپنے خاندانوں سے ویڈیو کالز پر گفتگو کروائی اور اہلِ خانہ سے کہا کہ وہ یہ کالیں اسرائیلی میڈیا کو بھیجیں۔
بعد ازاں یرغمالیوں کو غزہ کی پٹی سے باہر ایک فوجی اڈے پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کی طبی جانچ اور اہلِ خانہ سے ملاقات کرائی گئی،جس کے بعد انہیں اسرائیلی ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، یرغمالیوں نے گزشتہ دو سالوں کا زیادہ تر وقت زیرِ زمین سرنگوں میں گزارا،جہاں انہیں بہت کم خوراک، پانی اور طبی سہولیات میسر تھیں۔اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ان میں سے کئی کی جسمانی و ذہنی حالت انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔
آج بیس خاندان اس ناقابلِ برداشت اذیت سے آزاد ہوئے کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ آیا اپنے پیاروں کو دوبارہ دیکھ پائیں گے یا نہیں۔تاہم، اس خوشی کے لمحے میں میرا دل اُن کے لیے غمگین ہے جن کے پیارے زندہ واپس نہیں آئے۔
معاہدے کے مطابق، حماس کو 28 مقتول یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کرنی ہوں گی،جن میں دو امریکی شہری ایتائے چین اور عومر نوئیٹرا شامل ہیں۔حماس کا کہنا ہے کہ کچھ لاشوں کے مقامات نامعلوم ہیں کیونکہ انہیں حفاظت پر مامور جنگجوؤں کے مارے جانے یا ملبے میں دب جانے کے باعث تلاش نہیں کیا جا سکا۔
لاشوں کی تلاش کے لیے کثیرالقومی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے جو غزہ کے اندر سرچ آپریشن کرے گییرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں، اسرائیل نے 250 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے،جن میں سے بیشتر عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔مزید برآں، اسرائیل 7 اکتوبر کے بعد گرفتار کیے گئے 1700 فلسطینیوں کو بھی رہا کرے گا۔
البتہ، اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ ان فلسطینی عسکریت پسندوں کو رہا نہیں کرے گا جو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ملوث تھے۔انکار کردہ قیدیوں میں حماس کے عسکری رہنما ابراہیم حامد اور فتح کے سابق رہنما مروان برغوتی شامل ہیں،جنہیں اسرائیل علامتی حیثیت کی وجہ سے رہائی کے لیے “ناقابلِ قبول” قرار دیتا ہے