Nuh bulldozer

نوح تشدد کیس :ہائی کورٹ نے بلڈوزر کارروائی پرروک لگا دی

تازہ خبر قومی
نوح تشدد کیس :ہائی کورٹ نے بلڈوزر کارروائی پرروک لگا دی
نئی دہلی:۔7؍ اگست
(زین نیوز ڈیسک)
ہریانہ کے نوح میں تشدد کے بعد ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی بلڈوزر کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ پنجاب۔ہریانہ ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے یہ حکم دیا ہے۔ہائی کورٹ کا حکم آتے ہی ڈپٹی کمشنر دھیریندر کھرگٹا نے فوری طور پر افسران کو کارروائی کرنے سے روک دیا۔
حکومت کی مسماری مہم کو ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تھا۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے جسٹس گرمیت سنگھ سندھاوالیا نے حکم امتناعی جاری کیا۔
نوح میں گزشتہ 4 روز سے مسماری کا سلسلہ جاری تھا۔ اس دوران 753 سے زائد مکانات، دکانیں، شوروم، کچی آبادیوں اور ہوٹلوں کو مسمار کیا گیا ہے۔ انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انتظامیہ نے کہا کہ ان میں رہنے والے لوگ 31 جولائی کے تشدد میں ملوث تھے۔
نوح میں اب تک انتظامیہ نے 37 مقامات پر کارروائی کرکے 57.5 ایکڑ اراضی واگزار کروائی ہے۔ ان میں سے 162 مستقل اور 591 عارضی ڈھانچے گرائے گئے۔ نوح ٹاؤن کے علاوہ پنہانہ، نگینہ، فیروز پور جھرک اور پنگنوا جیسے علاقوں میں بھی تجاوزات ہٹا دی گئیں۔
گزشتہ روز انتظامیہ نے 3 منزلہ سہارا ہوٹل کو بھی منہدم کر دیا تھا جہاں سے تشدد کے دن پتھراؤ کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہوٹل مالک کو سب کچھ معلوم تھا لیکن اس نے فسادیوں کو پتھر جمع کرنے سے نہیں روکا۔گروگرام میں اتوار کی رات نامعلوم افراد نے ایک مسجد کو آگ لگا دی۔ پیر کی صبح اس کے بارے میں معلوم ہوا۔
 نوح میں تشدد کے بعد کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔ پیر کو انتظامیہ نے سرکاری دفاتر، بینک۔اے ٹی ایم کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم، بینک اور اے ٹی ایم صرف 11 بجے سے دوپہر 3 بجے تک کھلیں گے۔
کرفیو میں نرمی کا وقت اب صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لوگ شناختی کارڈ دکھا کر سرکاری دفتر یا بینکاے ٹی ایم جا سکتے ہیں۔