Rahul Gandhi

سپریم کورٹ سے ملی راحت کے بعد راہول گاندھی کی رکنیت بحال

تازہ خبر قومی
سپریم کورٹ سے ملی راحت کے بعد راہول گاندھی کی رکنیت بحال
 137 دن بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔کانگریس کا زبردست جشن
نئی دہلی:۔7؍اگست
(زین نیوز ڈیسک)
پریم کورٹ کی جانب سے 2019 کے مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمے میں ان کی سزا کو روکنے کے چند دن بعد کانگریس رہنما راہول گاندھی کی پارلیمانی رکنیت بحال کر دی گئی ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن پڑھا گیا ہے کہ راہول گاندھی کی لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کے طور پر نااہلی کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
راہول گاندھی 137 دن بعد پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے ہیں۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے سپریم کورٹ کے حکم پر آج صبح ہی راہول کی پارلیمنٹ کی رکنیت بحال کر دی ۔ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر راہول گاندھی نے سب سے پہلے مہاتما گاندھی کے مجسمے پر پھول چڑھائے۔
اس کے بعد وہ پارلیمنٹ کے اندر چلے گئے۔راہول گاندھی ابھی بھی لوک سبھا میں اپنی کرسی پر بیٹھے تھےکہ پانچ منٹ بعد ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
جب راہول گاندھی پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پہنچے۔ اپوزیشن اتحاد انڈیا کے ارکان پارلیمنٹ استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اراکین پارلیمنٹ نے راہول گاندھی تم اگے بڈھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے لگائے۔
مودی سرنیم ہتک عزت کیس میں 23 مارچ کو راہول کو نچلی عدالت نے دو سال کی سزا سنائی تھی۔ اس کے 24 گھنٹے کے اندر 24 مارچ کو ایم پی چلے گئے تھے۔ اس کے بعد گجرات ہائی کورٹ نے بھی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ راہول گاندھی نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ 134 دن کے بعد 4 اگست کو عدالت نے اس معاملے میں راہل کی سزا پر روک لگا دی۔
5 اگست کوسپریم کورٹ کے حکم کے فوراً بعد کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کی اور راہول گاندھی کی رکنیت بحال کرنے پر زور دیا۔ اسپیکر نے رنجن چودھری سے کہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ سے حکم ملنے کے بعد ہی اس پر فیصلہ کریں گے۔
5 اگست کوہفتہ کو ادھیر رنجن نے چھٹی کی وجہ سے لوک سبھا سکریٹریٹ کو ڈاک کے ذریعے کاغذات بھیجے۔ ادھیر رنجن نے بتایا کہ ایک انڈر سکریٹری نے کاغذات وصول کیے اور ان پر دستخط کیے، لیکن ان پر مہر نہیں لگائی۔
7 اگست جو لوک سبھا سکریٹریٹ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جس میں لکھا تھاکہ سپریم کورٹ کے 4 اگست کے حکم کے مطابقراہول گاندھی کی سزا پر روک لگا دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بحال ہو رہی ہے۔
جیسے ہی راہول گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت بحال ہوئی، کانگریس نے تقریباً 10 منٹ کے اندر دو ٹویٹس کیں۔ پہلے ٹوئٹ میں پارلیمنٹ کی رکنیت کی بحالی کا نوٹیفکیشن شیئر کرتے ہوئے پارٹی نے لکھا کہ یہ نفرت کے خلاف محبت کی جیت ہے۔
 ایک اور ٹویٹ میں ادھیر رنجن کو کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو مٹھائی کھلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پارٹی نے اپنا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ راہول گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت بحال کردی گئی ہے۔ یہ سچائی کی جیت ہے، ہندوستان کے لوگوں کی جیت ہے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے پیر کو راہول گاندھی کی لوک سبھا رکنیت کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ اس سے ہندوستان کے لوگوں کو خاص طور پر وایناڈ پارلیمانی حلقہ کے لوگوں کو راحت ملی ہے۔
 کھرگے نے اپنے ٹوئٹر وال پر لکھا کہ راہول گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت بحال کرنے کا فیصلہ خوش آئند قدم ہے۔ اس (قدم) سے ہندوستان کے لوگوں اور خاص طور پر وایناڈ کے لوگوں کو راحت ملی ہے۔